تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 521
تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم خطاب فرمودہ 21 اکتوبر 1978ء حالات کے ساتھ قربانیوں کی شکل بدلے گی، ان کی مقدار میں فرق نہیں آئے گا خطاب فرموده 21 اکتوبر 1978ء بر موقع سالانہ اجتماع لجنہ اماءاللہ سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے درج ذیل آیات کی تلاوت فرمائی:۔قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَشِعُونَ اس کے بعد فرمایا:۔وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ ( سورۃ المومنون: 4-2) ہمارے اجتماعات اس لئے منعقد کئے جاتے ہیں کہ ہم کام کی باتیں سنیں۔یعنی ایسی باتیں ، جن کا تعلق اعمال صالحہ سے ہو۔اور جو ہمیں اپنی ذمہ داریاں یاد دلائیں۔اور جن کے نتیجہ میں ہمارے عمل میں ایک جوش پیدا ہو۔اور رب کریم کے لئے ہماری محبت میں ایک جلا اور ایک تیزی اور ایک تڑپ پیدا ہو۔یہ ایسی کلاس نہیں، جہاں صرف تھیوری یعنی اصول پڑھائے جاتے اور سکھائے جاتے ہوں، جن کا فوری اور بلاواسط تعلق کسی لیبارٹری اور کسی تجربہ گاہ سے نہ ہو۔آپ یہاں بہت سی باتیں سنیں گی لیکن اگر آپ سنیں اور عمل نہ کریں تو آپ کا یہاں آنا، بے فائدہ ہے۔اور اگر آپ سنیں بھی نہ اور شور مچائیں تو پھر تو بالکل ہی بے فائدہ ہے۔قرآن کریم کا تعلق قدافلح المؤمنون سے ہے۔ایمان کی باتیں، وہ باتیں، جو ایمان میں تازگی پیدا کرتی ہیں اور جو دل کے عقیدہ کو مضبوط کرتی ہیں۔اور جن کے نتیجہ میں انسان کی طاقتیں اور اس کے جوارح، اس کی ظاہری طاقتیں بھی اور باطنی طاقتیں بھی عمل پر آمادہ ہوتی ہیں، وہ سب باتیں ہمیں قرآن عظیم نے ہی سکھائی ہیں۔قرآن سے باہر نور نہیں بلکہ اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔قرآن کریم میں مومنین کی کچھ علامتیں بتائی گئی ہیں، ان کی کچھ صفات بتائی گئی ہیں، جن ذمہ داریوں کو وہ نباہتے ہیں، ان کا کچھ ذکر کیا گیا ہے۔ان میں سے دو کے متعلق میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔آج کی دنیا، جو اسلام کی تعلیم کی پیاسی ہے اور جس میں یہ احساس دن بدن شدت اختیار کرتا چلا جا رہا ہے کہ ان کے عقائد اور ان کے فلسفے ناکام ہو چکے ہیں اور ان کی زندگی خوشحال زندگی نہیں ہے۔کوئی ایسی تعلیم انکو ملنی چاہئے ، کوئی ایسے اصول ان کو 521