تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 517
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطبہ جمعہ فرمودہ 20اکتوبر 1978ء وہ ساری جماعت ہائے احمد یہ بیرون مرکز، یعنی جو ہمارا ملک ہے، جہاں ہمارا مرکز ہے، اس سے باہر کی ساری جماعتیں، جو 1944ء تک کوئی چندہ نہیں دیتی تھیں ، 1944ء کے بعد 34 سال کے عرصہ میں ان کی چندوں کی آمد ایک کروڑ ، ساٹھ لاکھ روپے سے تجاوز کرگئی ہے۔یہ ان کی اپنی آمد ہے۔وہی چندہ وصول کرتے ہیں اور رجسٹروں میں درج کرتے ہیں۔ان کی اپنی مجالس عاملہ ہیں، جو آمد و خرچ پر غور کرتے ہیں۔وہ مرکز سے مشورہ ضرور لیتے ہیں، مرکز ان کو مشور ضرور دیتا ہے، لیکن وہ صاحب اختیار ہیں، وہ جس طرح چاہتے ہیں، دین کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے اکثر ایسے ممالک ہیں، جہاں سے روپیہ باہر لے جانے کی اجازت نہیں، اس لئے وہاں سے ایک دھیلہ باہر نہیں جاسکتا۔مثلاً مغربی افریقہ کے ممالک ہیں، جن کی میں ابھی مثال دوں گا۔وہ قانو نابا ہر پیسہ بھیج ہی نہیں سکتے۔پس 1944ء میں بیرونی ممالک کی جماعتیں محتاج تھیں، مرکز کی امداد کی۔لیکن آج نہ صرف وہ خود اپنے پاؤں پر کھڑی ہوگئی ہیں بلکہ اگر ملکی قانون ان کی اجازت دیتا ہو تو مثلاً غانا کی جماعت ہے، وہ شاید ایک اور مشن کو سنبھال لیتے۔لیکن چونکہ قانون اجازت نہیں دیتا ، اس لئے وہ کتا بیں شائع کر رہے ہیں۔انہوں نے قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ شائع کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔پس غانا کی جماعت ایک مثالی ہے۔اس کی پچھلے سال کی اصل آمد ستائیس لاکھ، نو ہزار، پانچ سو تمہیں روپے ہوئی۔حالانکہ 1944 ء تک ایک دھیلہ بھی آمد نہ تھی۔غانا کے مقابلہ میں تحریک جدید انجمن احمدیہ کی گزشتہ سال کی آمد 13لاکھ روپے تھی۔جبکہ غانا ایک چھوٹا سا ملک ہے اور اس کی آبادی بھی زیادہ نہیں لیکن وہاں جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے اتنی ترقی کر چکی ہے کہ ان کے چندے پاکستان کی نسبت دو گنا ہو گئے ہیں۔وہ چونکہ پیسے باہر نہیں بھیج سکتے ، اس لئے اپنے ملک ہی میں خرچ کرتے ہیں۔ان کو کوئی تنگی نہیں ہے۔ان کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ وہ باہر کی جماعتوں کی مدد کریں لیکن ان کا ملکی قانون ان کو اجازت نہیں دیتا، اس لئے وہ مدد نہیں کر سکتے۔یہ تو میں نے نانا کی مثال دی ہے، پھر سیرالیون ہے، نائیجیریا ہے، گیمبیا ہے، آئیوری کوسٹ ہے، لائبیریا ہے۔کہیں تھوڑی جماعت ہے، کہیں زیادہ جماعت ہے۔کہیں ضرورت کم ہے اور کہیں زیادہ ہے۔لیکن وہ کبھی اپنے پاؤں پر کھڑے ہیں۔جس طرح درخت کی جڑ جب مضبوط ہو جاتی ہے اور تنا بھی موٹا ہو جاتا ہے تو پھر وہ اپنی جڑوں پر قائم ہو جاتا ہے۔اور پھر اس کی زیادہ دیکھ بھال کی ضرورت نہیں رہتی، اسی طرح ان ممالک کی جماعتوں کو مالی لحاظ سے بیرونی مدد کی ضرورت نہیں رہی۔اسلام کے عالمگیر غلبہ کی ہم تو اللہ تعالی نے ایک منصوبہ بنایا ہے، جس میں ساری دنیا کو 517