تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 495 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 495

تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم حضور نے تفصیل سے بتایا ہے کہ ارشادات فرموده دوران دور و یورپ 1978ء یہ اسلام ہی ہے، جس میں موجودہ زمانے میں پیش آمدہ مسائل کا حل موجود ہے۔اور یہ صرف اسلام ہی ہے، جو بنی نوع انسان کی نجات کا واحد ذریعہ ہے۔اسلام جبر واکراہ کا مذہب نہیں۔مذہب انسان کے دل کا معاملہ ہے۔بڑی سے بڑی طاقت حتی کہ ایٹم بم سے بھی کسی کا دل نہیں بدلا جا سکتا۔اس لئے اسلام انسان کے دل و دماغ پر اثر انداز ہوتا ہے اور اپنے حسن واحسان سے اسے قائل کرتا ہے۔یہ دلوں کی تبدیلی ہی ہے، جس سے انسان خدا کا پاک بندہ بن جاتا ہے۔اس پر ایک نمائندہ نے کہا، یہ تو نظریہ ( آئیڈیا لوجی) ہے، اس پر کسی جگہ عمل بھی ہو رہا ہے؟ حضور نے فرمایا:۔آئیڈیا لوجی اس لئے ضروری ہے کہ وہ پریکٹس ( عمل ) کی بنیاد یتی ہے۔جب تک کسی مذہب کی بنیادی آئیڈیا لوجی نہ ہو، اس پر عمل کرنا مشکل ہے۔اس وقت دنیا اسلام کو اس زاویہ سے دیکھتی ہے، جو آج مختلف ملکوں میں نظر آرہا ہے۔اس لئے لوگ سمجھتے ہیں، اسلامی آئیڈیا لوجی تو ہے لیکن اس پر عمل نہیں ہورہا۔فرمایا:۔اسلام کی ابتدائی تین صدیوں میں اسلامی تعلیم پر عمل ہوتا رہا ہے۔پھر گوتبد یلیاں آئیں لیکن اب آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ کوئی بھی اسلام پر عمل نہیں کر رہا۔اسلامی تعلیم پر کم و بیش اب بھی عمل ہورہا ہے۔جماعت احمد یہ ہی کو لیں ، وہ اسلامی تعلیم پر عمل پیرا ہے۔گو یہ ایک چھوٹی سی جماعت ہے، جس کو کوئی دنیوی اقتدار بھی حاصل نہیں اور نہ اس میں اسے کوئی دلچسپی ہے۔یہ غریب اور بیکس جماعت اپنے قول و عمل سے اسلامی تعلیم پر عمل کر رہی ہے“۔حضور نے فرمایا:۔یہ نکتہ بھی یادر کھنے کے قابل ہے اور اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ یورپین ممالک اپنے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ان کے مسائل کا حل اور ان کی نجات کا ذریعہ اسلام کے سوا اور کوئی نہیں۔وہ اسے جتنی جلدی قبول کرلیں گے، اتنا ہی ان کے لئے بہتر ہے۔اب اس صورت میں دنیا کو مسائل کا سامنا ہو اور وہ انہیں حل کرنے کے قابل بھی نہ ہو تو اس پر میں طبعاً فکرمند ہوں۔میں انسانیت کی بھلائی چاہتا ہوں، انسانیت سے محبت اور پیار کرنا، میری طبیعت کا ایک حصہ ہے۔جو خدا کا ایک بہت بڑا عطیہ ہے۔مجھے امید ہے اور میں دعا کرتا ہوں کہ قبل اس کے کہ انسانیت عظیم تباہی سے دو چار ہو ، وہ اپنے پیدا کرنے والے رب کو پہچاننے لگے۔495