تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 441
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم ارشاد فرمودہ 03 اپریل 1977ء جامعہ احمدیہ کی غرض جامعہ کے ماحول کے بغیر نہیں پوری ہو سکتی ارشاد فرمودہ 103 اپریل 1977ء بر موقع مجلس شوری اس تجویز پر کہ جماعتی ضروریات کے پیش نظر جامعہ احمدیہ کا کورس اوپن یونیورسٹی کی طرز پر پڑھایا جائے اور کامیابی پر سندات دی جائیں ، بحث و تمحیص کے بعد حضور رحمہ اللہ نے فرمایا:۔ایک رضا کار معلمین کی سیکم جاری کی گئی تھی اور منصوبہ بنایا گیا تھا۔اس میں مقصد یہ تھا کہ ایک گاؤں سے ایک وقت میں ایک سال میں مثلاً ایک آدمی یہاں آتا ہے، وہ بہت کچھ سیکھتا ہے۔پھر وہ گاؤں میں جاتا ہے، ہر وقت اس کا علم گاؤں والوں کے لئے موجود ہے۔وہ ان کی راہنمائی کر سکتا ہے، ان سے تبادلہ خیال کر سکتا ہے، انہیں سکھا سکتا ہے۔اور اتنی بڑی جماعت ہے اور ایک کلاس میں پانچ ، سات آدمی آرہے ہیں۔یہ جو کلاس آپ کہتے ہیں ، خط و کتابت کے ذریعے دینی علوم سکھانے والی، اگر ہم آج کھول دیں تو مجھے یقین ہے کہ دس پندرہ سے زیادہ آدمیوں کے خط ہی نہیں آئیں گے کہ ہم اس میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ایک خواہش ہے، ایک ضرورت ہے۔اور ضرورت ہمیں نظر آتی ہے لیکن اس کو پورا کرنے کے لئے جو طریق اس تجویز میں پیش کیا گیا ہے، میں صرف اس کے متعلق کچھ کہوں گا ، وہ طریق تو ضرورت نہیں پوری کرتا۔پھر جیسا کہ میں نے کہا، اس کو ٹالا بھی جاسکتا ہے، نظر انداز بھی کیا جا سکتا ہے کہ اس میں جامعہ احمدیہ کا نام بلا وجہ لے لیا گیا ہے۔جامعہ احمدیہ کا تو اپنا ایک کورس ہے اور وہ کورس ٹیکنیکل ٹائپ کا نہیں ہے کہ جیسے مثلا ریڈیو مکینک بنانے کے لئے ہو۔اس میں ایک بہت بڑی چیز مد نظر ہے۔اس میں ہم کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں، یہ علیحدہ بات ہے۔لیکن بہت بڑی چیز اس ماحول کے اندر بچے کے ذہن کی تربیت کرنا ہے۔تا کہ وقف کی روح اس کے اندر پیدا ہو جائے۔بعض بچوں کے حق میں ہم کامیاب ہوتے ہیں ، بعض کے حق میں کامیاب نہیں ہوتے۔بعض بچے ہمارے باہر نکل کر اتنا عظیم کام دنیا میں کر رہے ہیں کہ آدمی کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔اور بعض یہاں ایسے ہیں، انہیں میں سے ، جامعہ میں سے نکلے ہوئے، جو دین کا کام چھوڑ کر کہتے ہیں کہ ہم نے ڈبل روٹی تیار کرنی ہے۔یہ واقعہ ہوا ہے کہ جی ہمیں چھٹی دی جائے، ہم لمبے عرصے کے لئے ڈبل روٹیاں بیچنا چاہتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک تو اس بچے کی 441