تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 402
اقتباس از خطاب فرمود 060 نومبر 1977ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم واپس آئیں گے۔یہ ساری باتیں غلط ہیں۔حضرت مسیح ناصری علیہ السلام، جو حضرت موسی کی امت کے مسیح اور خدا تعالیٰ کے ایک پیارے بندے تھے، وہ خدا کے ایک رسول تھے۔وہ ایک نہایت عاجز بندے تھے۔اور انہوں نے اپنی زندگی میں عاجزانہ را ہیں اختیار کی ہوئی تھیں۔ان کو خدا بنالین یا خدا کا بیٹا تصور کر لینا، بڑا ظلم ہے، انسان کا اپنے اوپر اور دوسرے انسانوں پر بھی۔عیسائیوں نے بڑا شور مچایا اور بہت بڑے بڑے دعوے کئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کے دعوے سے معا پہلے کے جو پندرہ میں سال ہیں ، وہ عیسائی پادریوں کے سال تھے۔اس زمانے میں جانتے ہو ، انہوں نے کیا کیا دعوے کئے تھے؟ انہوں نے یہ دعوے کئے تھے کہ عنقریب وہ وقت آنے والا ہے، ( نعوذ باللہ ) جب خداوند یسوع مسیح کا جھنڈا مکہ اور مدینہ پر لہرائے گا۔عنقریب وہ وقت آنے والا ہے، جب افریقہ کا براعظم خداوند یسوع مسیح کی جھولی میں ہوگا۔انہوں نے یہ دعوئی بھی کیا کہ ہندوستان کے رہنے والوں میں سے ( اس وقت ہندوستان کی تقسیم نہیں ہوئی تھی۔) اگر کسی کے دل میں کبھی یہ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ کسی ایک مسلمان کا چہرہ دیکھ لے مرنے سے پہلے تو ایک مسلمان بھی نہیں ہوگا ہندوستان میں، جس کا چہرہ دیکھ کر وہ اپنی یہ خواہش پوری کر سکے۔پس اس قسم کے دعوے تھے، جو عیسائی پادری کر رہے تھے۔تب خدا تعالیٰ نے غلبہ اسلام کی خاطر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کھڑا کیا۔اور فرمایا، میں تیرے ساتھ ہوں۔تو اکیلا ہے تو کیا ہوا؟ میری مدد تیرے شامل حال رہے گی۔اٹھ اور غلبہ اسلام کے لئے کام کر۔تب آپ نے وہ گوشہ تنہائی چھوڑا ، جس میں دنیا سے چھپ کر اپنے رب کریم کی عبادت میں آپ مشغول رہا کرتے تھے۔اور اسی میں خوش تھے اور وہاں سے نکلنا نہیں چاہتے تھے۔لیکن خدا نے فرمایا، میں تجھے کہہ رہا ہوں، اٹھ اور دین اسلام کی خدمت کر۔چنانچہ مخالفین اسلام خواہ وہ عیسائی ہوں یا دوسرے مذاہب یا از مز (ISMS) یا سکولز آف تھاٹ (Schools of Thought) کے ساتھ ان کا تعلق ہو، ان کے مقابلہ میں خدا نے آپ کو ایسے دلائل سکھائے کہ آپ نے مخالفین اسلام کا منہ بند کر دیا۔اور اب یہ حال ہے کہ جماعت احمدیہ کے لٹریچر کے مقابلہ میں وہ کسی احمدی سے بات نہیں کرتے۔بڑے بڑے پادریوں نے بہت سارے علاقوں میں عیسائیوں کو یہ ہدایتیں دی ہوئی ہیں کہ کسی احمدی بچے تک سے خواہ وہ ساتویں، آٹھویں کا طالب علم ہی کیوں نہ ہو، اس سے بھی بحث نہ کرو اور نہ کوئی کتاب لے کر پڑھو۔402