تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 393 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 393

تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطاب فرمودہ 04 نومبر 1977ء ایک بات میں بتادوں اور میں اپنے تجربے سے کہتا ہوں اور علی وجہ البصیرت کہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ جو غیر قرآنی ہمارے ہاتھ میں دی ہے، وہ اتنی عظیم ہے کہ آپ کی کوئی کتاب لے لو، چھوٹی ہو یا بڑی، اور اس کو سو دفعہ پڑھو، سو دفعہ ہی آپ کو اس میں سے نئے معانی نظر آجائیں گے۔یہ اس قسم کی تفسیر ہے۔آپ کی کتب عام کتابوں کی طرح نہیں بلکہ خدا سے سیکھی ہیں۔قرآن کریم کی یہ تفسیر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں اور آپ پر فدا ہو کر فنافی الرسول کی حالت میں حضرت مسیح موعود کو خدا نے سکھائی اور خدا خود آپ کا معلم بن گیا۔اور عظیم ہے، آپ کا کلام۔اور اس میں اتنا پیار ہے، ایک طرف اپنے رب کریم کے ساتھ اور دوسری طرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے۔اور بات بھی درست ہے۔کیونکہ اتنا عظیم انقلاب بپا کرنے والی ہستی یعنی محمدصلی اللہ علیہ وسلم کہ تیرہ سو سال سے بلکہ اب چودہ سو سال ہو گئے۔ایک انقلابی حرکت شروع ہوئی لیکن اس پر بڑے حملے ہوئے اور اس تعلیم پر ہزار ہا اعتراضات ہوئے۔حضرت مسیح موعود نے ایک جگہ عیسائیوں کو مخاطب کر کے لکھا ہے کہ ہر سال تم کنی ہزار اعتراض اسلام پر کر دیتے ہو اور اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو قیامت تک پتہ نہیں لگ سکتا کہ عیسائیت کچی ہے یا اسلام؟ اس لئے آؤ فیصلہ کریں۔میں تمہیں ایک گر بتا تا ہوں، ایک فیصلے کا طریق بتا تا ہوں۔اور وہ بڑا عظیم ہے۔اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم چیز آپ کو سکھائی۔آپ نے فرمایا کہ ساری دنیا کے پادری سر جوڑ میں اور فیصلہ کریں کہ اسلام پر سب سے زیادہ وزنی اعتراض کون سا پڑتا ہے؟ وہ سوچ کر اس نتیجہ پر پہنچیں کہ اس اعتراض سے زیادہ وزنی اور کوئی اعتراض اسلام پر نہیں۔اور جس کے متعلق تم نے فیصلہ کیا ہو کہ یہ اسلام پر سب سے وزنی اعتراض ہے، اس کو میرے سامنے پیش کرو۔میں اس اعتراض کو رد کروں گا اور جس جگہ تم نے اعتراض کیا ہے، اس جگہ سے اسلام کا حسن نکال کر تمہارے سامنے پیش کروں گا۔کہ یہ جائے اعتراض نہیں ہے بلکہ بہت عظیم تعلیم اس کے اندر پوشیدہ ہے، جس پر تم اعتراض کر رہے ہو۔اور اگر میں ایسا کر دوں اور جس اعتراض کے متعلق تم سب سر جوڑ کر اس فیصلہ پر پہنچے ہو کہ اس سے زیادہ وزنی اور کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا، اگر اس کو میں باطل قرار دے دوں تو جو اعتراضات خود تمہارے نزدیک اس سے کم وزن والے ہیں، وہ خود بخو درد ہو جائیں گے اور لمبی بحث کی ضرورت نہیں ہوگی۔آج سے قریباً ستر سال پہلے عیسائیت کو یہ چیلنج دیا گیا تھا لیکن انہوں نے یہ چیلنج قبول نہیں کیا۔67ء میں ڈنمارک میں مجھے عیسائی پادریوں کے دو گروہ ملے تھے۔میں نے ان کو کہا کہ اتنا لمبا زمانہ گزرا تمہیں یہ پینج دیا گیا تھا تم نے اب بھی اعتراض کرنے نہیں چھوڑے اسلام پر۔حالانکہ تمہیں یہ کہا 393