تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 366 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 366

اقتباس از درس بیان فرموده 14 ستمبر 1977ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم یعنی نانینز (ghanians) کو خواہ وہ احمدی ہیں یا نہیں ، سنبھالا ہوا ہے۔وہاں جماعت بڑی ترقی کر رہی ہے۔مساجد بن رہی ہیں۔کچھ سکول نصرت جہاں کے تحت بنے تھے، اس کے علاوہ بھی مدر سے بنے ہیں۔نیز اور بہت سے کام ہوئے ہیں۔کتابیں شائع ہوئی ہیں، قرآن کریم کا ترجمہ انہوں نے خود چھپوایا ہے، غالباً تیار ہوگیا ہوگا یا عنقریب ہو جائے گا۔افسروں کو بے دھڑک تبلیغ کرنے والا ہے۔اور بھی مبلغ ہیں، یہ تو میں نے مثال دی ہے۔پس یہ صرف آپ ہی نہیں ہیں کہ جو خدا تعالیٰ سے غیر ممالک میں جا کر تبلیغ کرنے کی توفیق پاتے ہیں۔عبدالوہاب بن آدم کو انگلستان میں تبلیغ کرنے کی توفیق مل گئی۔اور ہمارا تو کام یہ ہے کہ ہم نے نوع انسانی کو امت واحدہ بناتا ہے۔خدا نے انسان انسان میں کوئی فرق نہیں کیا ، نہ ہم کرتے ہیں۔دماغ کے کسی گوشے میں بھی کوئی فرق نہیں آیا۔اور اسی چیز کی انسان کو ضرورت ہے۔میری ذات سے تعلق رکھنے والی ایک بات ہے، لیکن میں کوئی ذاتی چیز تو نہیں بتا رہا تھا۔امریکہ میں ایک جگہ ایک ریسپشن کے موقع پر میں اسلامی تعلیم بتا رہا تھا کہ اس طرح اسلام نے نوع انسانی سے یہ پیار کیا ہے کہ کوئی ہو، عیسائی ہو یاد ہر یہ ہو، اسلام نے ان سب کے حقوق قائم کئے ہیں اور ان کے حقوق کی حفاظت کی ہے۔پندرہ ہیں منٹ تک میں اس گروپ کے ساتھ باتیں کرتا رہا۔بعد میں باہر جا کر وہ آپس میں باتیں کر رہے تھے اور کہتے تھے کہ اتنی حسین تعلیم ہے اور اتنا پیار ہے، اس شخص کے دل میں ( انسانیت کا پیار میرے دل میں خود ہی تو نہیں اگ آیا، وہ تو اسلام کی برکت ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت ہے، جس نے ہمارے دل میں انسان کا شرف اور اس کی عزت اور اس کا پیار پیدا کیا۔لیکن وہ نے لوگ تو اپنی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔چنانچہ وہ اپنی نگاہ سے دیکھ کر میرے متعلق کہنے لگا ) کہ جو شخص اس سے دشمنی رکھے ، وہ تو لعنتی ہو گا۔حالانکہ وہ باتیں کرنے والے خود عیسائی تھے۔میں تو خدا تعالیٰ کے حضور اور جھک گیا۔میں تو بڑا ہی عاجز بندہ ہوں۔جو چیز اثر کرتی ہے، وہ تو خدا کا کلام ہے اور وہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت ہے۔لیکن ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم یہ باتیں ان تک پہنچائیں۔اس سے ظاہر ہے کہ ان کے دل اور ان کے دماغ اسلامی تعلیم کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔شروع میں صرف theorotically تھیوریٹیکلی ) یعنی اعتقاداً وہ تیار ہو جائیں گے، عملاً چھوڑنا اور اپنے گند سے باہر نکلنا، بہادری کا کام ہے۔بہت بہادر ہے وہ شخص جو گند کو چھوڑ کر دلیری کے ساتھ نیکی کی راہ پر آجاتا ہے اور دنیا کی بالکل پرواہ نہیں کرتا۔وہ اس گند میں سے نکل رہے ہیں۔اب ہزاروں کی تعداد میں امریکہ میں احمدی ہو چکے ہیں۔ایک خط آیا تھا کہ اب وہاں یہ طریق بن گیا ہے کہ عورت کا احمدی مسلمان ہونا اور پاکستان والا برقع سلوانا، 366