تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 350 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 350

خطاب فرمودہ 26 مارچ 1976ء تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم جہاں تک ان دو مساجد کا سوال ہے، ان پر قریباً 40 اور 50 لاکھ کے درمیان خرچ کا اندازہ ہے۔ممکن ہے کہ 50 لاکھ سے کچھ بڑھ جائے۔کیونکہ یورپ میں بھی قیمتیں دن بدن بڑھتی چلی جارہی ہیں۔لیکن امید ہے، ان میں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی۔لیکن جہاں تک جماعت کا سوال ہے، ان کو اپنی ذمہ داریاں زیادہ چوکسی اور بیداری کے ساتھ نبھانے کی ضرورت ہے اور ضرورت پڑے گی۔اور اس طرف انہیں توجہ دینی ہوگی۔غالباً 73 ء ہی میں بلکہ شاید اس سے بھی پہلے نصرت جہاں کے منصوبے کے وقت سے ہی یہ خیال تھا کہ ایک سے زائد جگہ اچھے پر لیس ہونے چاہئیں۔اس وقت یہاں اپنے ملک میں ہمیں (اور میں سمجھتا ہوں کہ ملک کی بدقسمتی ہے۔ایسے ذرائع سہولت سے میسر نہیں آرہے کہ ہم جس قدر کتب شائع کرنا چاہتے ہیں، وہ آسانی کے ساتھ شائع ہوسکیں۔اور اگر شائع ہو جائیں تو پھر باہر بھجوانے میں ہماری راہ میں روکیں پیدا ہو جاتی ہیں۔میں اس جھگڑے میں نہیں پڑنا چاہتا کہ چھوٹے اور نچلے درجہ کے افسر ایسا کرتے ہیں یا اوپر سے انہیں کوئی ہدایت ہوتی ہے۔ہمیں اس سے کیا تعلق؟ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ ہماری راہ میں رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے بھائیوں کو مجھ دے کہ وہ اس قسم کی چھوٹی چھوٹی باتوں میں ایک ایسی مہم کے ساتھ الجھنے کی کوشش نہ کریں، جو آسمانوں پر غلبہ اسلام کے طور پر مقدر ہو چکی ہے۔اس وقت کام کرنے والے بھی اتنے میسر نہیں آسکے، جتنے کی ضرورت ہے۔جامعہ احمدیہ یا بی۔اے، ایم۔اے پاس، جو وقف کر دیتے ہیں، وہ جماعت کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا نہیں کر سکتے۔پھر ان میں سے ایک حصہ ٹوٹ بھی جاتا ہے۔خود انسان کے جسم کا ایک حصہ بھی مردہ ہو کر انسان کے جسم سے علیحدہ ہو جاتا ہے۔مگر جسم پھر بھی زندہ رہتا ہے۔قانون قدرت اسی طرح چل رہا ہے۔یہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے ہی اسی طرح ہے کہ آگے آکر ٹوٹنے والے بھی ہمیں نظر آتے ہیں اور آگے بڑھتے ہوئے اپنی رفتار کو تیز کرتے چلے جانے والے بھی ہمیں نظر آتے ہیں۔یہاں تک کہ وہ اس دنیا سے کوچ کر جاتے ہیں۔ساری مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔اور تاریخ جس بنیادی اصول کو ظاہر کرتی۔اس کے اندر تو بہر حال فرق نہیں آتا۔ہمارے ایک جرمنی کے مبلغ تھے۔انہوں نے وہاں یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا اور تبلیغ کا کام چھوڑ کر اور عملاً جماعت سے قطع تعلق کر کے وہاں نوکری شروع کر دی۔یہ استثناء ہمارے لئے دکھ کا باعث تو ہیں لیکن ہمارے لئے شرمندگی کا باعث نہیں۔کیونکہ ایک زندہ وجود کی یہ علامت ہوا کرتی ہے کہ اس کے کچھ حصے مردہ ہو جاتے ہیں۔ہے، 350