تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 317
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم اقتباس از خلاصه خطبه عید الفطر فرمودہ 25 اگست 1976ء حضرت مسیح موعود کی بعثت کے ذریعہ عظیم الشان عید کی بنیاد رکھی جاچکی ہے وو خطبہ عیدالفطر فرمودہ 25 اگست 1976ء پھر اللہ تعالیٰ نے آخری زمانہ میں مسیح اور مہدی کے ظہور کی شکل میں ایک بہت ہی عظیم الشان عید کا سامان کیا۔اور وہ ہے، مسیح و مہدی موعود کی بعثت کے ذریعہ اسلام کا ساری دنیا میں غالب آنا۔امت کو اتنی بڑی اور اتنی عظیم خوشی پہلے کبھی نہیں ملی تھی۔اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے بموجب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کے ایک فرزند جلیل کی حیثیت سے مبعوث ہو کر اعلان فرمایا کہ خوش ہو اور خوشی سے اچھلو کیونکہ غلبہ اسلام کا دن قریب آ گیا ہے۔اس سب سے بڑی اور سب سے عظیم الشان عید کی بنیاد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے ذریعہ رکھی جا چکی ہے۔چنانچہ اس وقت سے ہی اس عید کے آثار نمایاں سے نمایاں تر ہوتے چلے آرہے ہیں۔وو۔۔۔جس طرح رمضان کے روزوں کی مشقت برداشت کر کے اور دیگر عبادات بجالا کر عید کی تیاری کی جاتی ہے۔اسی طرح اس عظیم ترین اجتماعی عید کی تیاری بھی ہوتی چلی آرہی ہے۔اس تیاری کے پیش نظر ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ یہ اجتماعی عید تین سو سال کے اندر اندر اپنے کمال کو پہنچے گی۔آثار اور قرائن کو دیکھ کر میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ قیام جماعت کی پہلی صدی مکمل ہونے بہ پر کے بعد دوسری صدی شروع ہونے کے ساتھ ہی عالمگیر غلبہ اسلام کی اصل اور حقیقی اجتماعی عید بھی منصہ شہود پر آنی شروع ہو جائے گی۔جس طرح ہر عید کی تیاری کی جاتی ہے، اسی طرح آسمان میں اب عالمگیر غلبہ اسلام کی شکل میں ظاہر ہونے والی عظیم ترین عید کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ہمارے لئے بھی ضروری ہے کہ ہم زمین پر اپنی استعداد کے مطابق اس عید کی تیاریاں کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں۔ہمیں اس تیاری کے ذریعہ تمام بنی نوع انسان کے لئے خوشیوں کے سامان کرنے ہیں اور اپنی تیاریوں کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر اس عظیم ترین عید کا شایان شان استقبال کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس عید کی تیاریوں کے ضمن میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس کے فضل سے ہم اس کی رضا کی راہوں پر چلتے ہوئے اپنے لئے اور تمام بنی نوع انسان کے لئے عید کی خوشیوں کے سامان کرتے چلے جائیں“۔مطبوعه روزنامه الفضل 106اکتوبر 1976ء) 317