تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 287 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 287

تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 02 اپریل 1976ء ہے۔غرض مال اور دولت کے خرچ کی ہزار ہا ایسی راہیں ہیں۔اپنے پہ خرچ کی ، اپنوں پہ خرچ کی اور اپنے ہمسائیوں پہ خرچ کرنے کی راہیں ہیں۔اپنی قوم پر خرچ کرنے کی راہیں ہیں اور بنی نوع انسان پر خرچ کرنے کی راہیں ہیں کہ جو ثواب پر منتج ہوتی ہیں۔خرچ کی کچھ راہیں متعین کر دی جاتی ہیں، کبھی عارضی طور پر اور کبھی ایک لمبے عرصہ کے لئے۔مثلاً نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سنت تھی کہ جب دشمن سے خطرہ پیدا ہوتا تو آپ اسلام اور مسلمانوں کے دفاع کے لئے مقابلہ کرنے کا فیصلہ کرتے تو آپ اعلان کرتے کہ اپنی جانیں پیش کرو، اپنے وقت پیش کرو، اپنے مال پیش کرو۔اس وقت جو شخص اپنے دائرہ استعداد روحانی میں جتنادے سکتا تھا، وہ آکر اتنا پیش کر دیتا تھا۔یا اپنے دائرہ استطاعت مال میں جتنا دے سکتا تھا، اس دائرہ کے اندر رہتے ہوئے ، وہ اتنا پیش کر دیتا تھا۔اور خدا تعالی کی نگاہ یہ نہیں دیکھتی تھی کہ کسی نے ایک پیسہ دیا ہے اور کسی نے زیادہ دیا ہے۔جس کے پاس زیادہ تھا، اس نے زیادہ دے دیا۔جس کے پاس کم تھا، اس نے کم دے دیا۔اموال کے خرچ کا ایک وقتی اعلان ہوتا تھا اور امت مسلمہ کے مخلصین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور اس وقتی ہنگامی ضرورت کے پیش نظر اپنے اموال پیش کر دیتے تھے۔خدا تعالیٰ ایسے اوقات میں ان کی ان قربانیوں کا جو نتیجہ نکالتا تھا، اس سے ہم یہ استدلال کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ انہوں نے خدا کے حضور اپنی طاقت کے مطابق پیش کیا۔اور کہا کہ اے ہمارے رب ! جتنی طاقت تھی ، ہم نے دے دیا۔لیکن دشمن کے مقابلہ کے لئے جتنے کی ضرورت تھی، اتنا ہم نہیں دے سکے۔اس واسطے جتنی کمی رہ گئی ہے، وہ پوری کر دے۔نہ اس قسم کی تلوار میں ان کے ہاتھوں میں تھیں، جس قسم کی تلواریں لے کر دشمن حملہ آور ہوتا تھا۔نہ اس قسم کے سامان ان کے پاس تھے۔لیکن جو نتیجہ نکلا، اس سے ہم یہ مجھتے ہیں کہ اپنی طاقت کے مطابق جو پیش کی گئی تھی، اللہ تعالی نے اس کو قبول کر کے اپنی طرف سے برکت اور رحمت اور فضل کی شکل میں اتنا بیچ میں ڈالا کہ کوئی خامی باقی نہیں رہی۔ہر موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ سلوک کیا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی ، پھر خلفائے راشدین کے زمانہ میں بھی اور پھر بعد میں بھی جہاں اسلام کے احکام کی پابندی میں دشمنوں کی یلغار کا مقابلہ کیا گیا اور دشمن کے مقابلہ میں طاقت کم ہوتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ نے اتنا دیا کہ دشمن کا زور ٹوٹ گیا۔لیکن جب تک زور نہیں ٹوٹا، اس وقت تک ان کی بڑی طاقت تھی۔کسری ایک بہت بڑی طاقت تھی، ساری دنیا کے خزانے ان کے پاس تھے۔پھر قیصر ایک بہت بڑی طاقت تھی، جس سے مقابلہ ہوا۔پھر سپین کی طرف سے مسلمان داخل ہوئے اور انہوں نے اپنی حقیر قربانیاں پیش کر دیں۔( میں اس وقت تاریخ کے اس حصہ کی طرف نہیں جارہا کہ چین پر 287