تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 273
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم ارشادات فرمودہ 29 مارچ 1975ء مشاورت سے پہلے میرے پاس ان کا خط آیا ہے۔ابھی اس کا جواب نہیں بھیجوایا۔مشاورت سے فارغ ہو کر انشاء اللہ جواب دوں گا۔ان کو میں نے یہی سمجھانا ہے کہ جس اخلاص اور جس جذ بہ اطاعت کے ماتحت عبد الوہاب بن آدم پاکستانیوں کے ماتحت کام کرتا رہا ہے، اسی جذبہ کے ماتحت تمہیں عبدالوہاب بن آدم کے ماتحت کام کرنا پڑے گا۔ورنہ تو ہمارا یہ دعویٰ غلط بن جاتا ہے کہ ہم نے دنیا میں وحدت اسلامی قائم کرنی ہے اور نوع انسانی کو ایک خاندان بنا دینا ہے۔یہ تو اسی طرح چلے گا۔چنانچہ غیر ممالک سے بھی دوست یہاں آئیں گے۔مدت سے میری یہ خواہش چلی آرہی ہے۔اور شاید یہ اس شکل میں اب پوری ہو بھی نہ سکے۔کیونکہ اس وقت تو ہمارے اپنے سکول تھے۔غانا میں ہمارے ایک سکول میں ایک افریقن دوست ہیڈ ماسٹر تھے اور وہ بڑے مخلص نوجوان تھے۔میں نے ان سے کہا کہ میرا تو دل کرتا ہے، کبھی تمہیں بلا کر ربوہ کے سکول کا ہیڈ ماسٹر بنادوں، پھر مزہ آئے گا۔یعنی اسلام کی جو تعلیم احمدیت پھیلانا چاہتی ہے، اس کے مطابق تو قوم قوم اور رنگ ونسل میں کوئی فرق نہیں ہے۔اب اگر اسے بلائیں گے تو شاید کچھ عرصہ کے لئے جامعہ احمدیہ کا پرنسپل لگانا پڑے گا۔اسے پتہ لگنا چاہئے کہ ہم کوئی فرق نہیں کرتے۔جلسہ سالانہ پر جو غیر ملکی وفد آنا شروع ہوئے ہیں، وہ اسی وجہ سے بڑا اچھا اثر قبول کرنے لگے ہیں اور بے حد جذباتی ہو جاتے ہیں۔میرے خیال میں اتنے جذباتی تو شاید پاکستانی احمدی بھی نہیں ہوں گے، جتنے امریکہ کے احمدی ہو جاتے ہیں۔جب وہ یہاں سے گئے تو ان کا یہ حال تھا کہ محمد ابراہیم صاحب جمونی ( سابق ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ ) نے مجھے لکھا کہ ان کے علاقے سے دو، تین امریکن جلسہ سالانہ پر آئے ہوئے تھے۔جب وہ واپس گئے تو جمونی صاحب نے کہا کہ جماعت کو اپنے تاثرات بتائیں تا کہ ان کی تربیت ہو اور ان کے جذبات ابھریں۔خیر انہوں نے اس غرض کے لئے ایک میٹنگ بلائی، جس میں پانچ، پانچ سو بلکہ ہزار، ہزار میل سے آکر احمدی جمع ہوئے۔ان کے تاثرات سننے کے لئے کہ انہوں نے ربوہ میں کیا دیکھا اور کا محسوس کیا؟ انکی رپورٹ یہ تھی کہ ایک دوست تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو الفاظ کم تھے اور ہچکیاں زیادہ تھیں۔بات بات پر روپڑتے تھے۔منہ سے سارے الفاظ نہیں نکل سکتے تھے۔اور مجھے بھی لکھا کہ انہیں تو یہ پتہ ہی نہیں تھا کہ اسلام اس قسم کی مساوات کا سبق دیتا ہے، جس کا نظارہ ربوہ میں دیکھا ہے۔پس اب وقت آگیا ہے کہ اسلامی مساوات کا نمونہ قائم کیا جائے۔میں نے کل بھی بتایا تھا کہ ہم پر کیا کل خداتعالی کا بہ افضل نازل ہورہا ہے۔جو کچھ ہمیں بتایا گیا تھا، اس کے مطابق باتیں Unfold ہورہی ہیں۔273