تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 12
خطبه جمعه فرمود 09 نومبر 1973ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم بہر حال یہ کام تو انسان نے کرنا ہے، آسمان سے فرشتوں نے آکر زبانوں میں تراجم نہیں کرنے۔یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ان تراجم کے نتیجہ میں دنیا میں اثر پیدا کرنا، یہ فرشتوں کی ذمہ داری ہے۔لیکن تراجم کرنا، یہ ہماری ذمہ داری ہے۔کام بٹا ہوا ہے تقسیم کار ہے۔جو ہمارا کام ہے، وہ ہم نے کرنا ہے، کسی اور نے نہیں کرنا۔ملائکہ نے بھی نہیں کرنا۔جو ملائکہ کا کام ہے، وہ ہم کر ہی نہیں سکتے۔ڈاکٹر بھیجنا، ہمارا کام تھا، وہ ہم نے بھیج دیئے۔نسخہ لکھنا، ڈاکٹر کا کام تھا، وہ نسخہ لکھ دیتا ہے ، شفاد دینا، اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔آسمانوں سے فرشتے آئے اور انہوں نے ہمارے ان ڈاکٹروں کے ہاتھ میں، جو نصرت جہاں سیکیم کے ماتحت باہر گئے تھے، شفا رکھ دی اور ان کے علاج میں برکت ڈالی۔اور ان کا اثر اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور مریض ان کی طرف کھنچے چلے آئے اور تبلیغ کے مواقع پیدا ہو گئے۔پس جو ہمارا کام ہے، وہ ہم نے خود کرنا ہے۔جو فرشتوں کا کام ہے، وہ وہی کریں گے۔کیونکہ ان کے متعلق تو کہا گیا ہے کہ وہ انکار کر ہی نہیں سکتے۔يَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُونَ (النحل: 51) جو حکم ہو، اس کی پابندی کرتے ہیں۔انسان کو یہ آزادی دی ہے، کبھی وہ بغاوت کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ اسے محفوظ رکھے۔کبھی وہ غفلت اور ستی برتا ہے۔انسان اللہ تعالی کی پناہ میں رہے۔لیکن بہر حال اپنے کام ہم نے کرنے ہیں کسی اور نے آکے نہیں کرنے۔پس اس کے لئے تیار رہنا چاہیئے۔اور پھر اہل ربوہ کو میں مختصراً کہتا ہوں کہ جلسہ آ رہا ہے۔جلسہ کے لئے تیاری کرو۔ربوہ کو صاف ستھرا بنا کے اور اپنے چہروں کو پہلے سے بھی زیادہ اس بات کی عادت ڈال کر کہ آنے والوں کا استقبال بشاشت اور مسکراہٹوں کے ساتھ اہل ربوہ کریں گے۔اللہ تعالیٰ اہل ربوہ کو بشاشت اور مسکراہٹ کی توفیق دے اور اللہ تعالیٰ پہلے سے بھی زیادہ کثرت کے ساتھ باہر سے آنے والوں کو بھی اس بشاشت اور ان مسکراہٹوں کے وصول کرنے کی توفیق دے۔آمین۔(رجسٹر خطبات ناصر، غیر مطبوعہ ) 12