تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 257 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 257

تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم اقتباس از خلاصه خطاب فرمودہ 27 دسمبر 1975ء نہیں کر سکتے۔ہمارے جو ہو نہار بچے ہیں، (اور شکر ہے خدا کا کہ احمدیت میں ذہین بچے پیدا ہور ہے ہیں۔) ان کو سنبھالنا ہمارا کام ہے۔اور ان سے فائدہ اٹھانا پوری قوم کا کام ہے۔اگر کسی قوم میں اعلیٰ ذہن رکھنے والے بچے ہیں اور وہ انہیں نہیں سنبھالتی اور ان سے فائدہ اٹھانے کی فکر نہیں رکھتی تو وہ ناشکری قوم ہے“۔بعض لوگوں کی طرف سے احمدی بچوں کی تعلیمی ترقی میں روک ڈالنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔آج میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ ایک سکالرشپ جو جماعت احمدیہ برطانیہ کی طرف سے امام مسجد لندن (بشیر احمد خان رفیق) نے پیش کیا ہے، اس کے بارہ میں، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اسے کسی احمدی ہونہار کے لئے استعمال نہ کروں۔بلکہ اسے open merit scholarship بنادوں۔یہ 1976ء کا اسکالرشپ ہے۔یعنی جو طلباء 1976ء میں ایم۔اے یا ایم ایس سی پاس کرنے والے ہیں، ان میں سے جو طالب علم سب سے زیادہ قابل ہوگا، اسے یہ وظیفہ دے دیا جائے گا۔یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ اس کا تعلق کس فرقہ یا جماعت سے ہے۔ہر فرقہ سے تعلق رکھنے والے طلباء اس کے مقابلہ میں شریک ہو سکیں گے۔اور بلا امتیاز عقیده مسلک و فرقہ ، جو طالب علم بھی سب سے زیادہ قابل اور اہل ثابت ہوگا ، اسے یہ وظیفہ مل جائے گا۔میں امید رکھتا ہوں کہ ایسے سکالرشپ بڑھتے رہیں گے۔ہمارے opcn merit scholarship میں یہ نہیں ہوگا کہ یہ وظیفہ فلاں کے لئے ہے، فلاں کے لئے نہیں۔اس ضمن میں حضور نے مزید فرمایا کہ اس کے علاوہ ہمارے اپنے بچوں کا بھی حق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جو دینی صلاحیتیں اور استعداد میں عطا کی ہیں، ان کی کامل نشو ونما کا انتظام کیا جائے۔ایسے بچوں کو سنبھالنا ساری دنیا کی جماعت ہائے احمدیہ کا فرض ہے۔اگر انہیں اعلیٰ تعلیم دلانے کے لئے فارن ایکسچینج نہیں ملتا یا نہیں مل سکتا تو اس کی فکر نہیں۔ایک سکالرشپ برطانیہ کی جماعت نے دیا ہے۔ایک سکالرشپ امریکہ کی جماعت دے دی گی۔ایک سکالرشپ افریقہ کی کوئی جماعت دے دے گی۔اس طرح تعلیمی وظائف کی تعداد بڑھتی جائے گی اور قابل اور ذہین بچوں کی اعلیٰ تعلیم اور ان کی ذہنی استعدادوں اور صلاحیتوں کی نشو ونما کا انتظام ہوتا چلا جائے گا“۔حضور نے بچوں کی ذہنی نشو ونما اور تحصیل علوم کی اہمیت واضح کرتے ہوئے فرمایا:۔ہمیں اس وقت عالموں اور ماہرین علوم کی اس قدر ضرورت ہے کہ آپ اندازہ نہیں لگا سکتے۔ہمیں ضرورت ہے فلسفہ دانوں کی ، سائنسدانوں کی اور زبان دانوں کی۔ایک دفعہ یوگوسلاویہ کے بعض لوگ مجھے ملے اور کہا، اگر ہماری زبان جاننے والے مبلغ دو تو چھ لاکھ یوگوسلاوین باشندے جو یورپ میں مزدوری کرتے پھرتے ہیں ، سارے ہی مسلمان ہو جائیں گے۔جرمن زبان جاننے والے ہمارے پاس 257