تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 242
خطبہ جمعہ فرمودہ 21 نومبر 1975ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم ان سے آدھا کمالوں گا۔اور جتنا کماؤں گا، اس کے مطابق اس نے اپنے دماغ میں اندازہ کیا کہ علاوہ اور چندوں کے، جو اس نے دینے تھے اور وہ اس کے دماغ میں حاضر تھے، اس نے کہا کہ میں اتنی رقم اس منصوبے میں دوں گا۔یعنی پانچ، چھ سال بعد اس کی جو کمائی شروع ہونی ہے، جبکہ وہ پاس ہونے کے بعد ڈاکٹر بن جائے گا، اس کے مطابق اس نے وعدہ لکھوا دیا۔اور میں نے کہا تھا کہ وعدے لکھوا دو۔اب اگر اس وقت وہ سیکنڈ ائیر میں تھا تو اب فورتھ ائیر میں ہے۔وہ ابھی چندہ نہیں دے سکتا۔ابھی تو وہ طالب علم ہے۔اگر آج وہ نہیں دیتا تو اس کے اوپر کیا الزام ہے؟ پس جو ایسے افراد یا ایسے گروہ ہیں، ان کے اوپر کوئی الزام نہیں۔ان کے لئے تو ہم اور بھی دعائیں کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کی خواہشات اور ان کی تو قعات سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانی دینے کی توفیق عطا کرے۔لیکن اس وقت میں بڑی عمر کے ان لوگوں سے مخاطب ہوں، جنہوں نے اپنی آمد کے مطابق وعدے لکھوائے تھے کہ وہ اپنے وعدے پورے کریں۔غالبا اگلے مارچ میں دوسرا سال ختم ہورہا ہے۔وہ اپنے وعدے کے مطابق دو سال کا حصہ ادا کریں۔پاکستان میں بھی اور باہر کے ممالک میں بھی۔انگلستان کو میں اس وقت دوسری یاد دہانی کرارہا ہوں۔ایک میں وہاں کروا آیا تھا۔ان کے دو سال کے وعدے ( جو استثنی ہیں، وہ نکال کر ) کم و بیش ستر ہزار پاؤنڈ بنتے ہیں۔یعنی قریباً 17,18 لاکھ روپیہ۔لیکن وہاں بعض چھوٹی چھوٹی جماعتیں ہیں، وہ اپنے چندے وہاں بھیج دیتے ہیں۔وہ بھی کئی ہزار بن جاتے ہیں۔میرا اندازہ ہے کہ پچھتر ہزار پاؤنڈ سے اسی ہزار پاؤنڈ تک ان کا ان دو سالوں کا چندہ بن جائے گا۔یہ جو میں نے کہا تھا کہ وہاں ایک دوسرا گروہ ہے ، بات دراصل یہ ہے کہ وہ گروہ چوہدری ظفر اللہ صاحب اور ان کے چند ساتھیوں کا ہے۔ان کا چندہ دس لاکھ پاؤنڈ میں سے ( جو انگلستان کا ٹوٹل چندہ ہے) ساڑھے چار، پونے پانچ لاکھ پاؤنڈ ہے۔لیکن انہوں نے اپنی سکیم کے مطابق جس کی مجھ سے اجازت لی ہے، یہ وعدے کئے ہیں۔چونکہ وہاں ان کی واقفیت بہت سارے دوستوں سے ہے اور وہ دنیا میں چوٹی کے آدمی ہیں۔ان کی سکیم یہ ہے کہ اگر اس وقت ہم رقم انوسٹ (Invest) کردیں، تجارت پر لگا دیں تو ہمیں امید ہے کہ یہ رقمیں دگنی ہو جائیں گی۔بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ ہو جائیں۔میں نے کہا ٹھیک ہے، آپ وہاں لگا دیں۔چنانچہ انگلستان کا نصف حصہ تو ہر سال پیسے دے کر اور اپنے وعدوں کا حصہ دے کر ہر سال کی ضرورت میں اس طریق سے حصہ لے رہا ہے۔لیکن انہوں نے اپنا تاجرانہ حساب کر کے جو نفع وغیرہ آنا ہے، اس کے حساب سے پہلی رقم 77ء کے آخر میں دینی ہے، انشاء اللہ۔اور یہ ہے اکٹھی 242