تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 218 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 218

خلاصہ خطبہ جمعہ فرمودہ 17 اکتوبر 1975ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم ستی سے کام نہ لیں اور آپ کو شرمندگی نہ اٹھانی پڑے، میں آج تکلیف کے باوجود خطبہ پڑھنے آگیا ہوں۔صد سالہ جوبلی فنڈ میں آپ کے وعدوں کا دوسرا حصہ، جو پہلے حصہ کی طرح قریبا پانچ لاکھ پاؤنڈ پر مشتمل ہے، اس کی ایک لاکھ پچیس ہزار پاؤنڈ کی پہلی قسط کی ادائیگی 1977ء میں ہوگی۔اس کے متعلق میں نے سوچا ہے کہ اس سے ناروے میں مسجد تعمیر کی جائے۔حضور رحمہ اللہ نے گوٹن برگ کی مسجد کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد ایک اور اہم کام انجام دینے کا بھی ذکر فر مایا۔چنانچہ فرمایا:۔جب آپ اپنے وعدوں کو پورا کرنے کے سلسلہ میں اپنی ذمہ داری ادا کر دیں گے تو پھر انگلستان کے مشن کو، جو یورپ میں ایک مرکزی مشن کی حیثیت رکھتا ہے، مضبوط کرنے کا کام کیا جائے گا۔اس سلسلہ میں متعدد منصوبوں کو عملی جامہ پہنانا ہوگا“۔حضور نے اس اہم کام کی کسی قدر تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ جب انسان اندھیرے میں ہوتا ہے اور اسے مستقبل کا کچھ علم نہیں ہوتا، وہ ایسی بات بجھا دیتا ہے، جو بظاہر تو اہم معلوم نہیں دیتی لیکن جب اندھیرا دور ہوتا ہے اور مستقبل حال میں تبدیل ہوتا ہے تو اس وقت پتہ لگتا ہے کہ ایسا کیوں ضروری تھا۔میں نے چند سال بیشتر کہا تھا کہ ہمیں دو، تین اعلیٰ درجہ کے پریس مختلف ملکوں میں لگانا ہوں گے تا کہ دنیا کی مختلف زبانوں میں قرآن مجید کی طباعت ہو سکے اور ایسے رسالے شائع کئے جاسکیں ، جو جھوٹے اور بے بنیاد الزامات یا اعتراضات کی تردید یا لوگوں کی غلط فہمیوں کے ازالہ پر مشتمل ہوں۔اگر دوسروں کی طرف سے غلط اور جھوٹے اعتراضات نہ کئے جائیں تو ہمیں ایسے رسالے لکھنے اور شائع کرنے کی ضرورت نہیں۔ہمارا اصل کام تو دنیا کے سامنے اسلام کی صداقت کو پیش کرنا ہے۔ہمارے اور حقیقی اسلام کے خلاف غلط اعتراضات شائع کر کر کے ہمیں مجبور کیا جاتا ہے کہ ہم ایسے رسالے بھی لکھیں۔دراصل دنیا دو حصوں میں بٹ گئی ہے۔ایک تو وہ لوگ ہیں ، جن کا انحصار صداقت پر ہے۔اور ایک وہ لوگ ہیں، جن کا انحصار بہت حد تک جھوٹ پر ہے۔جب یہ مؤخر الذکر لوگ جھوٹ پر انحصار کرتے ہوئے ہمارے خلاف سراسر جھوٹی باتیں شائع کرتے ہیں تو پھر ہمیں بامر مجبوری ان کی تردید میں رسالے شائع کرنے پڑتے ہیں، ہمیں اس کام میں گھسیٹا جاتا ہے، ورنہ ہمارا اصل کام یہ نہیں ہے۔ہمارا اصل کام تو براہ راست صداقت کو پیش کرنا ہے۔ویسے اس جھوٹے پراپیگنڈے سے ہم قطعاً ہراساں نہیں ہوتے۔218