تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 197
تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطبہ جمعہ فرمودہ 17 جنوری 1975ء کریں۔ٹھیک ہے، ہر ایک نے اپنی استعداد اور اپنی قوتوں کے مطابق اس معرفت کو حاصل کرنا ہے۔لیکن یہ بھی درست ہے کہ ہمارا ہر بچہ، جو اپنے دائرہ استعداد کے اندر اپنے کمال کو نہیں پہنچتا، وہ مظلوم ہے۔اور ہمارے اوپر اس کی ذمہ داری آتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں یہ توفیق عطا فرمائے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور ان کو ادا کریں۔اللہ تعالیٰ ہماری نوجوان نسل کو اور نئے آنے والوں کو یہ توفیق دے کہ وہ اپنے مقام کو سمجھیں۔جس طرح ایک اہلنے والی دیگ، جس کے ابلنے میں کچھ وقت لگتا ہے ، ایک دیگ ، جو اہل رہی ہے، وہ بعض دفعہ آدھے گھنٹہ میں یا گھنٹے میں اس درجہ حرارت کو پہنچتی ہے لیکن اس ابلتی ہوئی دیگ میں دو قطرے ٹھنڈے پانی کے ڈالو تو ایک سیکنڈ میں ابلنے لگتی ہے، اسی طرح ہمارے اندر بھی خدا تعالی کی محبت اور پیار کی اتنی گرمی ہونی چاہیے کہ اس کے مقابلے میں ابلتے ہوئے پانی کی کوئی گرمی نہ ہو۔باہر سے آنے والے ہمارے اندر شامل ہوتے ہیں یا ہماری جو نو جوان نسل ہے، جب وہ بڑی ہو کر اپنی ذہنی اور روحانی بلوغت کو پہنچتی ہے تو جس طرح ایک سیکنڈ یا اس کے ہزارویں حصے میں ٹھنڈے پانی کا قطرہ ابلنے لگتا ہے (جو ابلتی دیگ میں ڈالا جائے ) اور حرارت کے بلند درجے کو پہنچ جاتا ہے، اسی طرح یہ بھی خدا کی محبت اور پیار میں انتہائی طور پر گداز ہو جائیں۔پس ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر دو کو توفیق دے۔انصار اللہ کو بھی کہ وہ تربیت کی ذمہ داری کو نباہ سکیں اور نو جوانوں کو بھی کہ وہ اس تربیت کو قبول کر لیں۔اور سارے کے سارے بلا استثناء اس مقام تک پہنچ جائیں کہ وہ ہر پہلو سے معرفت الہی اور عرفان باری کو حاصل کر چکے ہوں۔اور وہ اس بات کے قابل ہو گئے ہوں کہ جب غلبہ اسلام کی اس عالمگیر اور ہمہ گیر جدوجہد میں وسعتیں پیدا ہوں اور اس وقت ہزاروں مربیوں کی ضرورت ہو تو ہزاروں ، لاکھوں مربی موجود ہوں تا کہ دنیا کو سنبھالا جا سکے اور نوع انسانی کو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کیا جاسکے۔( مطبوعه روزنامه الفضل 21 فروری 1975ء) 197