تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 192
خطبہ جمعہ فرمودہ 17 جنوری 1975ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے، پہلے انبیاء کے سلسلوں میں تنزل واقع ہوا اور پھر نئے انبیاء مبعوث ہوئے یا امت محمدیہ میں مجددین ، مصلحین اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق رکھنے والوں اور اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے والوں نے اپنے اپنے وقتوں میں اسلام کے نور کو اور وہ ، جو سراج منیر تھا، اس کی روشنی کو از سر نو قائم کیا تو پھر اس میں تنزل اور تبدیلی جو واقع ہوئی، وہ کیوں؟ وہ اس لئے کہ آئندہ نسلوں کو سنبھالا نہیں گیا اور ان کی تربیت نہیں کی گئی۔انہوں نے اپنی آنکھوں سے جن حقائق کو اور جن صداقتوں کو اور جن انوار کو اور جن رحمتوں کو دیکھا تھا ، آنے والی نسلوں کی آنکھوں سے وہ چیزیں اوجھل ہو گئیں۔اس لئے وہ صراط مستقیم سے بھٹک گئیں۔ہو پس ہماری جماعت کے لئے یہ ضروری ہے کہ جو صداقتیں کامل اور مکمل شکل میں قرآن عظیم میں پائی جاتی ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ایک کامل نبی، جو خاتم تھا تمام روحانی کمالات کا ، اس کے ذریعہ ہمیں عطا ہوئی ہیں، ہم انتہائی کوشش کریں کہ یہ صداقتیں اور یہ انوار اور یہ حقائق اور یہ برکات اور یہ رحمتیں جماعت احمدیہ کی ایک نسل کے بعد دوسری نسل حاصل کرتی چلی جائے۔اگلے چودہ سال کا زمانہ میرے نزدیک تربیت پر بہت زور دینے کا زمانہ ہے۔جس میں ہزاروں ہزار احمدیوں کو تربیت یافتہ ہونا چاہیے۔اور پھر اس کے بعد جیسا کہ میں نے پہلے بھی کئی دفعہ بتایا ہے، غلبہ اسلام کی صدی کا ہم نے استقبال کرنا ہے۔بہر حال تربیت ساتھ لگی ہوئی ہے۔لیکن بعض اوقات تربیت پر زیادہ زور دینا پڑتا ہے اور بعض اوقات اعمال کی طرف زیادہ توجہ کرنی پڑتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ تربیت بھی ہوتی رہتی ہے۔کیونکہ اپنے اندر اسلام کو قائم رکھنے اور شریعت محمدیہ کے انوار کو دوسروں تک پہنچانے کے لئے زیادہ توجہ دینی پڑتی ہے اور مستانہ وار جہاد کرنا پڑتا ہے۔بہر حال یہ زمانہ تربیت کا زمانہ ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ عمل نہیں کرنا۔تربیت کا زمانہ اس معنی میں مراد ہے کہ اس وقت تربیت کی طرف خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔تاکہ نئی نسل بھی ان ذمہ داریوں کو نباہنے کے قابل ہو کر ہمارے شانہ بشانہ کھڑی ہو جائے۔اور اس لحاظ سے بھی کہ انشاء اللہ بڑی وسعت پیدا ہوگی اور بہت زیادہ تعداد میں مربیوں کی ضرورت پڑے گی۔ہمیں اس طرف توجہ کرنی چاہیے۔کیونکہ ہماری کامیابی کے لئے مربیوں کا ہونا ضروری ہے۔ضرورت کے وقت مربیوں کا میسر آنا، یہ بھی اس وقت کا ایک اہم تقاضا ہے۔پس اگر ہم خود اپنے نفوس کی اصلاح کر لیں اور اگر ہم یہ کوشش کریں کہ ہمارا ماحول تربیت یافتہ اور اصلاح یافتہ ہو جائے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم ہر وقت ان صداقتوں کو جو اسلامی عقائکہ میں پائی جاتی 192