تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 191 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 191

تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطبہ جمعہ فرمودہ 17 جنوری 1975ء اسلام کی ابدی صداقتوں کونئی نسل کے سامنے دہراتے چلے جائیں خطبہ جمعہ فرمودہ 17 جنوری 1975ء سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔اس وقت جماعت احمد یہ ایک نہایت ہی اہم اور نازک تربیتی دور میں داخل ہو چکی ہے۔مخالفت نے اس وقت جو رنگ اختیار کیا ہے، وہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم تربیت پر بہت زور دیں۔تربیت کی ذمہ داری بچوں پر نہیں ڈالی جاسکتی اور نہ نو جوانوں پر ڈالی جاسکتی ہے۔یہ کام بڑوں کا ہے۔یعنی عمر میں اور تجربے میں ثقہ اور سبھی ہوئی طبیعتوں والے انصار کا یہ فرض ہے کہ وہ تربیت کی طرف توجہ دیں۔چنانچہ آج میں اپنے انصار بھائیوں سے اسی سلسلہ میں مخاطب ہورہا ہوں۔۔الہی سلسلے یا امت محمدیہ کے اندر وہ آخری الہی سلسلہ، جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دنیا میں قائم کیا گیا، اس سے پہلے کے الہی سلسلے تنزل کرتے ہوئے نئے سلسلوں کی شکل اختیار کرتے چلے گئے۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ جو امت بنائی گئی، اس میں مختلف ادوار میں اور مختلف علاقوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مصلحین اور مجددین پیدا کئے گئے۔جنہوں نے اپنے اپنے علاقوں اور زمانوں میں دین کو قائم کرنے اور قائم رکھنے کی ذمہ داری نباہی۔اور اس طرح یہ شمعیں نسلاً بعد نسل روشن ہوتی رہیں اور اسلام اپنی خالص اور پیج شکل میں دنیا کے سامنے آتا رہا۔یہاں تک کہ مہدی علیہ السلام کا زمانہ آ گیا۔اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے اولیاء اللہ کو بھی بتایا ہے اور انہوں نے اپنی کتب میں بڑی وضاحت سے لکھا ہے کہ مہدی علیہ السلام کا نور قیامت تک ممتد ہو گا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت تک ایک کے بعد دوسری نسل کی تربیت ضروری ہے۔تاکہ وہ نور، جو اسلام کا نور ہے اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا نور ہے، جسے دنیا نے مہدی علیہ السلام کے ذریعہ دیکھا، وہ اپنی پوری چمک اور روشنی کے ساتھ قائم رہے۔ہمارے دلوں میں بھی اور ہمارے اعمال میں بھی ، ہماری کوششوں میں بھی اور ہماری زندگی کے ہر پہلو میں بھی۔تا کہ جس غرض کے لئے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے تھے ، وہ غرض پوری ہوتی رہے اور ہر انسان ہمارے محبوب آقا، حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اپنے رب کی معرفت بھی حاصل کرے اور اس کی رحمتوں کا بھی حصہ دار بنے۔191