تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 2 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 2

خطبہ جمعہ فرموده 09 نومبر 1973ء تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم انگلستان میں اس سے پہلے بنی تھی۔لیکن وہ بھی انگلستان میں تبلیغ کی ابتداء تھی۔اور انسان کی تدبیر پر اللہ تعالیٰ کی تقدیر غالب آتی ہے اور انسان کے منصوبوں پر اللہ تعالیٰ کا منصوبہ حاوی ہوتا ہے۔ہمیں اسلام کو غالب کرنے کے لئے تدبیر کرنے اور منصوبے بنانے کا حکم ہے۔لیکن ہمارا یہ مشاہدہ ہے کہ ہم جس رنگ میں کوئی تدبیر یا منصوبہ بناتے ہیں، اللہ تعالی اس سے مختلف رنگ میں کامیابی بخشتا ہے اور اس کے اثر کو بڑی شدت کے ساتھ ایک دوسری شکل میں دنیا بھر میں قائم کرتا ہے۔انگلستان میں اگر چہ مسجد اور مبلغ کا مکان یا مشن ہاؤس جو خریدا گیا تھا، وہ تحریک سے پہلے بن گیا تھا۔قریباً دس سال پہلے اس کی ابتداء ہوگئی تھی۔پھر کچھ وقت اس کو بنے میں لگا۔لیکن منصوبہ پہلے تیار ہو چکا تھا اور آہستہ آہستہ کام ہو رہا تھا۔اور زیادہ تر کام یہ ہورہاتھا کہ وہ لوگ جو اسلام کے متعلق غلط فہمیوں میں اس وجہ سے مبتلا تھے کہ ان تک خبریں پہنچانے والے متعصب جان بوجھ کر غلط باتیں اسلام کے ماضی اور اس کی انفرادیت کے متعلق اور اسلام کی عظمت کو گرا کر ایک پستی کی شکل میں پادری لوگ اس دنیا میں ، جس کا میں ذکر کر رہا ہوں ( یعنی یورپ میں پیش کر رہے تھے۔پھر اس محاذ پر یعنی خیالات میں تبدیلی پیدا کرنے کے محاذ پر ایک جنگ لڑی گئی اور کافی حد تک کامیابی کے ساتھ وہ اپنے آخری دور میں پہنچ رہی ہے۔ایک متوازی حرکت - تھی۔ایک طرف انسان کی ، اس انسان کی ، جو مہدی معہود پر ایمان لا کر خدا تعالیٰ کا فدائی بن چکا تھا۔ایک مہم تھی، جس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے متعدد جگہ فرمایا ہے۔وہ یہ تھی کہ وہ بنیا دی چیزیں، جو اسلام کے مقابلہ میں غلط ہیں لیکن کھڑی کی جاتی ہیں، ان کی وجہ سے اسلام کی راہ میں مشکلات ہیں، ان کو مٹادیں۔مثلاً جہاں تک عیسائی دنیا کا تعلق ہے اور یہ بہت وسیع دنیا ہے، تثلیث کا مسئلہ، کفارہ کا عقیدہ اور مسیح علیہ السلام کی غلو والی محبت۔یہ تین چیزیں بنیادی طور پر اسلام کے راستہ میں روک تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی تقدیران روکوں کو دور کرے گی۔چنانچہ اب بہت جگہ آپ کو عجیب نظارہ نظر آئے گا یا ماحول آپ دیکھیں گے کہ کیتھولک سے اگر آپ بات کریں تو وہ کہتے ہیں، ہم تو خدائے واحد کو ماننے والے ہیں اور ایک سے زائد خدا پر ایمان نہیں رکھتے۔تمہارا سارا ماضی تثلیث اور اس کی حمایت کے لئے تحریر و تقریر سے بھرا پڑا ہے ، تمہاری آواز میں فضا میں ابھی تک گونج رہی ہیں، آج تم انکار کرتے ہو؟ یہ تبدیلی اس عرصہ میں ہوئی ہے، جس کے متعلق پیشگوئی کی گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے فرشتوں کو نازل کر کے حالات کو بدلے گا۔کفارہ کے مسئلہ کا نام آج تمسخر کے لئے تو لیا جا سکتا ہے۔وہ خود کہتے ہیں کہ یہ غلط ہے اور نا معلوم کن لوگوں نے کس خیال کے له 2