تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 140
خطاب فرمودہ 29 مارچ 1974ء تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم کی طرف سے تو مجھے کوئی رپورٹ نہیں ملی لیکن خدام الاحمدیہ اور صدرانجمن احمدیہ کے گیسٹ ہاؤس تو مجھے امید ہے کہ انشاء اللہ جلسہ سالانہ تک بن جائیں گے۔فاؤنڈیشن کی طرف سے بننے والے بڑے گیسٹ ہاؤس کا کام بھی شروع ہو گیا ہے۔انشاء اللہ جلسہ سالانہ سے پہلے پہلے بن جائے گا۔لیکن اس کے باوجود جس طرح وفود کی باہر سے اطلاعات آرہی ہیں، ہمارے لئے یہ مہمان خانے بھی کافی نہیں ہوں گے۔اس لئے ایک چیز میرے ذہن میں تھی، جسے میں بتانا بھول گیا تھا اور وہ یہ ہے کہ جب تک ہم سٹیڈیم کی قسم کا اپنا جلسہ گاہ نہ بنائیں،اس وقت تک ہماری یہ ضرورت پوری نہیں ہوتی۔اگر ہم وہ بنالیں تو کئی سو کرے گیسٹ ہاؤس کے طور پر مہمانوں کے لئے میسر آجائیں گے۔جس طرح مونو (MONO) ٹائپ کا انتظام ہو گیا ہے،اس چیز کی ان کو عادت پڑ گئی ہے، اس لئے وہ تکلیف میں نہیں ڈالے گا۔یعنی کمرے، جن میں یہ سہولت بھی ہو کہ وہ اپنی کافی وغیرہ بناسکیں، اس کے لئے Switch مہیا کر دئیے جائیں گے۔چھوٹے چھوٹے کمرے ہوں گے۔اور ان کے غسل خانے اکٹھے ہوں گے۔ہر کمرے میں نہیں بلکہ باہر نکل کر کچھ فاصلے پر مردوں اور عورتوں کے لیے فلش ٹائپ غسل خانے بنا دیے جائیں گے۔یہ کام فوری تو نہیں ہوسکتا۔اس پر کم از کم دو، تین سال لگیں گے۔اور میرا خیال ہے کہ اس پر 50-40لاکھ روپے خرچ آئیں گے۔لیکن یہ خرچ کر دینا چاہیئے۔ایک تو اس لئے کہ اس وقت ہماری جو جلسہ گاہ ہے، وہ ضرورت سے چھوٹی بھی بنتی ہے اور بڑی تنگ ہوتی ہے، اس کی وجہ سے ہمیں پریشانی اٹھانی پڑتی ہے۔وقت پرلکڑی لاؤ۔کبھی یہ چیز نہیں مل رہی، کبھی کوئی اور چیز نہیں مل رہی۔ان دنوں میرا بہت سا وقت ان چھوٹی چھوٹی چیزوں پر خرچ ہو جاتا ہے اور پھر اتنا اچھا انتظام بھی نہیں ہو پاتا ہے۔اس لئے ایک مستقل جلسہ گاہ بنی چاہئے ، جس میں دولاکھ بلکہ اس سے بھی زیادہ آدمیوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہو۔اس کا نقشہ میں نے تیار کروالیا ہے۔جب اس قسم کی جلسہ گاہ تیار ہوگئی تو پھر ہماری ضرورت پوری ہوگی۔کیونکہ اس صورت میں تین، چار سو کمرے میسر آجائیں گے، جن میں 500 600 مہمانوں کے ٹھہرانے کا انتظام ہو سکے گا۔اگر عورتیں نہ ہوں تو ایک، ایک کمرے میں دو دو، تین تین مہمانوں کو ٹھہر اسکتے ہیں۔لیکن میاں بیوی ہوں اور ان کو اکٹھارکھنا ضروری ہو تو ایک چھوٹا کمرہ ان کو دیا جا سکتا ہے۔بہر حال یہ خرچ بھی ہوگا اور یہ جو بلی کے لئے ہے۔یعنی جو بلی کے سال جماعت احمد یہ اس قسم کی ضرورت کے مطابق جلسہ گاہ بنائے گی (جس کے اور بھی بہت سے فائدے ہوں گے۔) اور اس میں مزید وسعت دینے کی گنجائش بھی رکھی جائے گی۔اس کا اندر کا میدان 600x600 فٹ تجویز کیا گیا ہے۔اس کی سیٹرھیاں قریباً 80 فٹ ہیں۔اس طرح یہ 800x800 فٹ بن جاتا ہے۔گویا موجودہ جلسہ گاہ سے آٹھ ، 140