تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 105
تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطبہ جمعہ فرمودہ 17 مئی 1974ء میں قربان کر دیا اور بڑی عظیم بشارتوں کے وارث بنے۔چنانچہ انہیں جب بھی بشارتیں ملتی تھیں، ان کو تسلی ہو جاتی تھی اور وہ یقین رکھتے تھے کہ یہ اپنے وقت پر پوری ہو کر رہیں گی۔مگر ان کے بعد میں آنے والوں نے ان قلعوں پر جو منزلیں تعمیر کی ہیں، ان منزلوں کی تعمیر کے لئے ویسی ہی قربانیوں کی ضرورت نہیں پڑی ، جیسی قربانیوں کی بنیادوں کو قائم کرنے اور ان کو مضبوط کرنے اور ابتدائی عظیم قلعوں کی تعمیر کے لئے شروع میں ضرورت پڑی تھی۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک اور بشارت دی گئی تھی۔اور وہ یہ تھی کہ آپ کی بعثت کا جو آخری مقصد ہے، یعنی تمام اقوام عالم کو امت واحدہ بنا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کیا جانا اور ہر قوم اور ہر ملک کے لئے ایسے حالات پیدا کرنا کہ اللہ تعالیٰ کے پیار سے اسی طرح حصہ لے رہا ہو، جس طرح کوئی اور ملک یا کوئی اور قوم حصہ لے رہی ہے۔یہ کام اب جماعت احمدیہ کے سپر دہوا ہے۔جو مہدی معہود اور سیح موعود علیہ السلام کی جماعت ہے۔یہ کام اتنا عظیم ہے اور یہ بوجھ اتنا بھاری ہے کہ صحابہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد امت محمدیہ کے کسی اور گروہ پر اس قدر عظیم اور اس قد روزنی اور اس قدر اہم ذمہ داری نہیں پڑی۔مگر اس عظیم ذمہ داری کے ساتھ بہت بڑی بشارتیں بھی دی گئی ہیں۔جنہیں سن کر آج ہمارے وہ احمدی دوست بھی جنہوں نے تھوڑی بہت تربیت حاصل کر لی ہے، ان کے دماغ بھی شاید انہیں قبول نہ کریں۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دکھایا گیا تھا کہ کسری اور قیصر مغلوب ہوں گے۔آپ کے روحانی فرزند جلیل حضرت مسیح موعود اور مہدی معہود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے کشف میں رشیا (Russia)(جو اس وقت دنیا کی طاقتور حکومتوں اور ملکوں میں سے ایک ہے اس ) میں ریت کے ذروں کی طرح احمدی دکھائے گئے ہیں۔اسی طرح مغربی اقوام ( جو بہت طاقتور حکومتیں ہیں ) جو کسی زمانہ میں سفید فام قو میں کہلاتی تھیں، ان کے کثرت کے ساتھ اسلام میں داخل ہونے کی بشارت دی گئی ہے۔حالات میں ایک نئی تبدیلی ہو چکی۔وہ یہ کہ خود مسلمان کہلانے والے بھی مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کی شناخت میں غفلت برت رہے تھے اور یہ بھی امت محمدیہ کے اندر ایک بہت بڑا فتنہ تھا کہ مہدی آگئے لیکن جن کو شناخت کرنا چاہیے تھا، انہوں نے شناخت نہیں کیا۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک اور کشف بھی دکھایا گیا کہ مکہ میں احمدی ہی احمدی پھر رہے ہیں۔اس لئے اگر آج مکہ سے ہمارے خلاف کفر کا فتویٰ جاری ہو جائے تو اس میں رانے کی کوئی بات نہیں ہے۔یہ ایک عارضی حالت ہے۔لیکن جو ہمیشہ رہنے والی صداقت ہے، وہ یہ ہے کہ مکہ ومدینہ پر اللہ تعالی فضل کرے گا اور وہ مہدی اور مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شناخت کریں گے 105