تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 104 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 104

خطبہ جمعہ فرمودہ 17 مئی 1974ء تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم طرح باندھتی ہیں؟ میں اس وقت جامعہ احمدیہ کا پرنسپل تھا۔جامعہ احمدیہ کے میرے شاگرد اور میں خود بھی کئی دن خرچ کرتے اور چھوٹے رنبوں کے ساتھ گڑھے کھود کر ان کے اندر بانس لگاتے تھے۔بیچارے خدام کے ہاتھوں میں چھالے پڑ جاتے تھے۔پھر ایک، دو سال کے تجربہ کے بعد یہ پتہ لگا کہ اتنی کوفت اور تکلیف اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔بس ایک کلہ بنالیا، دو، چارضر میں لگائیں، بانس کے لئے سوراخ بن گیا۔اس کو نکالا آگے چلے گئے۔اس طرح جس کام پر ہفتے لگے تھے، وہ دو گھنٹوں میں مکمل ہو گیا۔میں نے یہ ایک چھوٹی سی ظاہری مثال دی ہے، خدام الاحمدیہ کے کام کی تاکہ بچے بھی سمجھے جائیں۔غرض جس کام کو شروع کیا جاتا ہے، اس کو معیار پر لانے کے لئے بڑی کوفت اٹھانی پڑتی ہے، بڑی قربانی دینی پڑتی ہے۔بعد میں آنے والوں کو اس قسم کی قربانیاں نہیں دینی پڑتیں۔چنانچہ ساری دنیا کو اللہ تعالیٰ کے نور اور اللہ تعالیٰ کی محبت اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دائرہ میں لانے کا کام جب حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں شروع ہوا تو یہ اتناعظیم کام تھا اور بھاری ذمہ داریاں ڈالی گئی تھیں اور بڑا بوجھ اٹھانا تھا، اس لئے اس ابتدائی زمانہ کے مسلمانوں کو عظیم بشارتیں دی گئیں۔اور ایسے وقت میں دی گئیں، جب کہ غربت کا زمانہ تھا۔مسلمان ایک ایسی جنگ میں گھرے ہوئے تھے ، جسے ہماری تاریخ جنگ احزاب کے نام سے یاد کرتی ہے۔احادیث میں آتا ہے کہ اس وقت مسلمانوں کی یہ حالت تھی کہ وہ پیٹ پر پتھر باندھ کر بھوک کے احساس کی شدت کو کم کرنے کی کوشش کرتے تھے۔مگر اس ت آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے ذریعہ آپ کے صحابہ کو بشارت یہ دی گئی کہ کسری اور قیصر کی سلطنتوں پر اسلام غالب آئے گا۔چنانچہ بعد میں مسلمان کسری اور قیصر کی سلطنتوں پر غالب آئے۔جس طرح چند سال پہلے امریکہ اور روس دنیا کی دو عظیم سلطنتیں کہلاتی تھیں، اسی طرح اس زمانے میں کسرئی اور قیصر کی دون نتیں تھیں۔اب دیکھو! مسلمانوں کو کھانے کو میسر نہیں تھا مگر ان کو بشارت دی گئی تھی ، کسری اور قیصر کی دو عظیم سلطنتوں پر اسلام کے غالب آنے کی۔چنانچہ بتایا گیا تھا کہ مسلمان ان کی دولت سے فائدہ اٹھائیں گے اور کسری اور قیصر کے پاس جو دنیوی حسنات ہیں، وہ مسلمانوں کو ملیں گی۔اس موقع پر یہ بشارت دینا گویا مسلمانوں کو یہ سبق سکھانا تھا کہ جو قربانیاں تم دے رہے ہو، اس سے زیادہ ہماری طرف سے تمہیں بشارتیں دی گئی ہیں۔اور تمہیں یہ چیزیں ملنے والی ہیں۔امت محمدیہ میں بڑا ہی عظیم وہ گروہ ہے، جس نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تربیت حاصل کی۔امت مسلمہ کی زندگی سنوارنے اور امت مسلمہ کے محلوں کی بنیادوں کو مضبوط بنانے اور ان کو مضبوط کرنے اور پھر ان پر اسلام کے عظیم قلعے بنانے کے لئے انہوں نے اپنا سب کچھ خدا تعالیٰ کی راہ 104