تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 314 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 314

خلاصہ خطاب فرمودہ 107 اگست 1976ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم ہیں اور مومنوں کو مکلف کیا ہے کہ وہ ان سب احکام پر عمل پیرا ہوں۔اور اس طرح اجر عظیم کے مستحق بنیں۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو احکام دیئے ہیں، انہیں بجالانے کی اس نے استعداد اور طاقت بھی مومن مردوں اور مومن عورتوں کو عطا کی ہے۔اس کا اپنے بندوں کو حکم دینا ہی اس امر کو مستلزم ہے کہ اس نے اس حکم کو بجالانے کی استعداد اور طاقت بھی اپنے بندوں کو ودیعت کی ہے۔کیونکہ استعداد اور طاقت عطا کئے بغیر کوئی حکم دینا سراسر بے معنی ہے۔خدا تعالیٰ ایسا بے معنی حکم بھی دے ہی نہیں سکتا۔اس سے واضح ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے نوع انسان کو اس کی طرف واپس لانے کی ذمہ داری ہم پر ڈالی ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نے ہمارے اندر یہ استعداد اور طاقت بھی رکھی ہے کہ ہم یہ عظیم کام انجام دے سکیں۔پس مایوس ہونے یا ہمت ہارنے کی ضرورت نہیں۔ہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے ہمت اور توفیق مانگتے ہوئے اور اس کی تائید و نصرت پر بھروسہ کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کی عطا کردہ طاقت کو بروئے کارلائیں اور اپنی اس استعداد کو اجاگر کرنے اور اسے بڑھانے میں کوشاں رہیں۔اگر ہم ایسا کریں گے تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں اس عظیم ذمہ داری کو ادا کرنے سے باز رکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ہماری ایک ہی تمنا اور کوشش ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم انسانیت کو مکمل تباہی سے بچانا چاہتے ہیں۔ہم اپنے لئے ہی نہیں بلکہ تمام بنی نوع انسان کے لئے اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کے بھکاری ہیں۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں دونوں کو مخاطب کر کے صرف نیک اعمال ہی نہیں بلکہ اعمال صالحہ بجالانے کا حکم دیا ہے۔اور اعمال صالحہ سے وہ نیک اعمال مراد ہیں، جو موقع اور محل کے مطابق اور مناسب حال ہوں۔یعنی جن کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی عائد کردہ ذمہ داری باحسن طریق پوری ہو سکتی ہو۔اس لحاظ سے نوع انسان کو خدا کی طرف واپس لانے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ ان کا زندہ تعلق قائم کر کے انہیں مکمل تباہی سے بچانے کے کام میں ہمارے مردوں اور ہماری عورتوں نے ایک ساتھ آگے بڑھنا ہے۔اسلام کی روسے الرِّجَالُ قَوْمُونَ عَلَى النِّسَاءِ کے فرق کے ساتھ مرد اور عورتیں آپس میں برابر ہیں۔برابر ہیں، وہ اس لحاظ سے کہ دونوں کی صلاحیتوں کو پوری پوری نشو ونماملنی چاہئے۔اور صلاحیتوں کی نشو ونما کا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ انسان کو خواہ وہ مرد ہو یا عورت جلاء، روشنی اور نوریل جائے۔یہ جلاء، یہ روشنی اور یہ نور اسلام سے باہر رہ کرمل ہی نہیں سکتا۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ مذہب کے بغیر ، اور مذہب سے مراد اسلام ہے، اس لئے اسلام پر عمل پیرا ہوئے بغیر اخلاق پیدا ہو ہی نہیں سکتے۔314