تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 94
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطاب فرمودہ 02 مئی 1974ء مطلب نہیں نکلتا۔ہم پر مخالف اعتراض کرتے ہیں، اس لئے میں یہ بات آپ کو سمجھا رہا ہوں۔اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو سپریم کمانڈر ہے، اس کا مقام بہت بڑا ہے۔مثلاً پاکستان میں اگر پانچ کور کمانڈر ہیں تو امریکہ میں میرے خیال میں سو کے قریب یقینا ہوں گے۔پھر جو ہتھیار ہیں، اس لحاظ سے فوج کی تقسیم ہے۔مثلاً بری فوج ہے ، فضائیہ ہے، بحریہ ہے اور اب انسان نے ترقی کی اور نئے سے نئے ہتھیار بنالئے ہیں۔پہلے لڑنے والی فوج کے یہ تین باز و سمجھے جاتے تھے۔اور اب دنیا کے بعض ملکوں نے تین کی بجائے پانچ باز و بنالئے ہیں۔میزائل، جو زمین سے اڑ کر جہازوں کو نشانہ کرتی ہے یا زمین سے زمین پر نشانہ کرتی ہے، وہ اتنی ترقی کر گئی ہے کہ جس طرح فضائیہ کا ایک علیحدہ بازو ہے، میزائل کا بھی علیحدہ باز و بنالیا گیا ہے۔اور ابھی ماضی قریب میں (rocketory) راکٹری، جو میزائل سے مختلف ہے، ایک ملک نے اس کا علیحدہ باز و بنالیا۔اور پانچ باز و ہو گئے۔جب فوج کے تین باز و تھے، اس وقت سپریم کمانڈر کا یا سالا را عظم کا جو مقام تھا، وہ دنیاوی لحاظ سے اتنا بڑا نہیں تھا، جتنا بڑا مقام اب اس ملک کے سپریم کمانڈر یا کمانڈر انچیف کا ہو گیا ہے، جس میں تین کے بجائے پانچ بازو فوج کے ہیں۔لیکن ہم روحانی جہاد اور روحانی مقابلوں اور عظیم روحانی جنگ اور روحانی قربانیوں کی بات کر رہے ہیں۔اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قیامت تک کے لئے روحانی فوجوں کے سالا را عظم بنا دیئے گئے ہیں۔یعنی آپ کو خاتم النبین کا لقب عطا ہوا ہے۔اور آپ کے ماتحت جن سالاروں نے پیدا ہونا تھا، ان کی تعداد تین، چار، دس یا دس سونہیں بلکہ ایک زمانہ ایسا بھی آیا کہ جب تنزل کے آثار تھے، اس وقت بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ امت محمدیہ میں لاکھوں لاکھ مقر بین الہی پیدا ہوئے۔اور مقرب الہی ہی روحانی فوج کا سالار ہوتا ہے۔اور اس وقت مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوگئے ، بسیج دنیا کی طرف آگئے۔اس عظیم جنگ کا معرکہ۔۔۔۔جنگ تو شروع ہوئی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ لیکن۔۔۔۔اس جنگ کا آخری معرکہ ، جس کی شدت انسانی عقل اپنے تصور میں نہیں لاسکتی، وہ زمانہ آ گیا۔مہدی آگئے اور اسلام کے اندر شیطان سے جو آخری معرکہ ہونا تھا، اس کا زمانہ آ گیا۔اسی لئے ہمارے چودہ سوسالہ عرصہ میں جو کتب مسلمان علماء اور اولیاء اور خدا کے برگزیدہ اور مقربین نے لکھی ہیں، اللہ تعالیٰ نے اتنا عظیم مقام ان کو مہدی کا بتایا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے خود انہیں علم دیا تھا کہ اس کا مقام اور شان کیا ہوگی۔اتنا عظیم مقام اور شان بتائی ہے کہ ہم حیران ہوتے ہیں، جب ان کتب کو پڑھتے ہیں۔تو ان بزرگوں کی طرف منسوب ہونے والوں نے مہدی کا زمانہ تو پایا مگرا سے شناخت نہیں کیا۔اور 94