تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 47 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 47

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرمودہ 25 مارچ 1966 ء شیطان نے خدا تعالیٰ کے وجود کا انکار نہیں کیا تھا لیکن یہ تو میں خدا تعالیٰ کے وجود کا بھی انکار کر رہی ہیں۔پھر مادی لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ توفیق عطا فرمائی کہ وہ ترقی کرتے چلے جائیں اور مادی سامان اس قدر اکٹھے کرلیں کہ دنیا ان کا مقابلہ نہ کر سکے۔انہوں نے ان مادی سامانوں کے مہیا کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ قانون کے مطابق کوششیں کیں۔اور اس قانون کے مطابق ان کی یہ کوششیں بار آور ہوئیں۔گواس کا جو نتیجہ انہوں نے نکالا ، وہ ہمارے نزدیک صحیح نہیں۔کیونکہ بجائے اس کے کہ وہ شکر اور حمد کے ساتھ اپنے رب کے حضور جھکتے ، انہوں نے اس کے وجود سے بھی انکار کر دیا۔پس یہ ملک (یعنی چین ) بھی بڑ اوسیع ہے، بڑا طاقت ور ہے۔اور پھر خدا تعالیٰ کے وجود سے منکر ہے۔تو ہم نے یہ عہد کیا ہے کہ ہم اس کے رہنے والوں کو مسلمان بنائیں گے تاوہ اپنے پیدا کرنے والے کو پہنچانے لگیں۔پھر انگلستان ہے، امریکہ ہے، ان کے رہنے والوں کی بڑی اکثریت اگر چہ زبان سے خدا تعالیٰ کے وجود کا اقرار کرتی ہے لیکن ساتھ ہی وہ ایک اور لعنت میں گرفتار ہے۔اس نے انسان کے ایک بچے کو خدا تسلیم کر لیا ہے۔اور وہ نہیں سمجھتی کہ وہ ہستی، جو ایک عورت کے پیٹ میں 9 ماہ کے قریب نہایت گندے ماحول میں پرورش پاتی رہی ہو ، اس کو انسانی عقل خدا کیسے تسلیم کر سکتی ہے؟ جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دینی لحاظ سے بالکل اندھے ہیں۔کوئی معقول دلیل ان کے دماغ میں نہیں۔بہر حال انہوں نے ایک انسان کی ، جس کو وہ خدائے یسوع مسیح کہتے ہیں، پرستش شروع کی۔اور اس سے اتنی محبت اور پیار کیا کہ اپنی تمام دنیوی طاقتیں اس گمراہ عقیدہ کے پھیلانے میں خرچ کر دیں۔اور وہ، جو ان کا حقیقی رب تھا اور وہ ، جو ان کا سچا نجات دہندہ تھا یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ان کی طرف وہ متوجہ نہ ہوئے۔انہوں نے اپنی تمام طاقت، اپنا سارا زور ، اپنے تمام حیلے اور ہر قسم کا دجل خدا تعالیٰ کی اس سچی تعلیم اور صداقت کے خلاف استعمال کرنا شروع کر دیا، جو بنی نوع انسان کی بھلائی کے لئے بھیجی گئی تھی۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت سے قبل بہت حد تک وہ اس میں کامیاب بھی ہوئے۔لیکن جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعوئی فرمایا اور اللہ تعالی نے آپ کو دلائل حقہ دیئے ہمنجزات اور روشن نشانات بھی عطا فرمائے تو اس وقت ان کی ترقی دجل کے میدان میں کافی حد تک رک گئی۔لیکن ابھی بہت سا کام کرنے والا باقی ہے۔غرض ہمارا دعوی ہے اور اپنے رب سے ہمارا عہد ہے کہ ہم ایک دن ان تمام اقوام کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں سرشار کر کے چھوڑیں گے۔پھر افریقہ کے ممالک ہیں اور دوسری کئی اور آبادیاں ہیں، جو بد مذہب" کہلانے کی زیادہ مستحق ہیں۔کیونکہ ان کے ہاتھ میں کوئی محرف الہی کتاب بھی نہیں۔ہاں ان کے پاس کچھ روایات ہیں، جو بڑی 47