تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 982
ارشادات فرمودہ یکم اپریل 1973ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم نے دوبارہ وضاحت بھی کر دی ہے اور مجھے امید ہے کہ دوستوں کی سمجھ میں آ گئی ہو گئی کہ سوا دو کروڑ سے زائد کا بجٹ ہے ، جو انشاء اللہ پورا ہوگا۔ابھی ابھی لجنہ اماءاللہ کی طرف سے چٹ ملی ہے کہ ان کا بجٹ کا اندازہ دس لاکھ رپے کم لگایا گیا ہے۔بہر حال اب جو میں نے اندازہ پیش کیا ہے اس سے زیادہ ہی ہوگا کم نہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا کتنا فضل ہے اور اللہ کے یہ فضل میں اس لئے نہیں گنوار ہا کہ آپ کے دل میں کوئی فخر پیدا ہو۔بلکہ اس لئے گنواتا ہوں کہ آپ کے دل میں اور زیادہ بجز اور انکساری پیدا ہو کہ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ وہ ہمارے جیسے کمزور بندوں کو جب نواز نا چاہے تو اس طرح نوازتا ہے۔مکرم مرزا عبد الحق صاحب نے ابھی بتایا ہے کہ 67ء کو جب میں سرگودھا گیا تھا تو اس وقت باتوں باتوں میں ایک عام اندازہ لگایا گیا تھا کہ جماعت کی آمد ایک کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔اور اس وقت جو ایڈریس پیش کیا گیا تھا، اس میں بھی اس بات کا اظہار کیا گیا تھا اور اب 1973ء میں بالکل صحیح اعداد و شمار کی رو سے آمد دو کروڑ 28 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔فالحمد للہ۔یہ حض اللہ کے فضل کا نتیجہ ہے بہت سے لوگ اس میں بھی بڑا شور مچائیں گے اور کچھ یہ لکھ دیں گے (پہلے کئی لوگ اس قسم کی باتیں لکھ چکے ہیں) کہ حکومت پاکستان کو چاہئے کہ وہ جماعت احمد یہ نائیجیریا کے چندے منجمد کر دے حالانکہ نائیجیریا کی حکومت پر تو ان کا کوئی اختیار ہی نہیں ہے۔اسی طرح جب میں نے کہا کہ نائیجیریا نے ریڈیو اسٹیشن لگانے کی اجازت دے دی ہے تو اخباروں میں آگیا کہ حکومت پاکستان کو چاہئے کہ اس کو فوراً بند کروانے کا انتظام کرے۔پاکستان کی حکومت نائیجیر یا یں تو پابندی نہیں لگا سکتی۔وہ تو یہاں بھی ہمارے لئے سہولتیں ہی پیدا کرے گی اور زیادہ سے زیادہ پیدا کرتی چلے جائے گی۔انشاء اللہ۔تا ہم اس کی تفصیل اس کو نظر آئے یا نہ آئے۔لیکن مجموعی کیفیت یہ ہی ہے کہ جماعت ترقی کرتی چلی گئی۔کئی جگہ شاید نظر آیا ہو کہ لوگ ہماری مخالفت کر رہے ہیں۔لیکن عملا نتیجہ یہ نکلا کہ کوئی چیز ہمارے خلاف نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکی۔اس لئے کہ خدا تعالیٰ مخالفت کے تیر کو خود ہی موڑ دیتا ہے۔صفات باری کے مظہر اتم نے مٹی کے ذروں کو پھینکا تھا جنہوں نے خدا کی طاقت سے کفار کی آنکھوں کو چندھیا دیا تھا۔پس تیر کا رخ کسی اور طرف ہوتا ہے لیکن خدائی تصرف اس کا رخ پھیر دیتا ہے۔قیصر روم کے خلاف جب خلافت اولی میں جنگیں ہوئیں تو ایک موقع پر انہوں نے مسلمانوں پر رعب ڈالنے کے لئے عورتوں اور عام شہری لوگوں کو بھی فصیل کے اوپر لاکر کھڑا کر دیا۔ان کے پادری بھی وہاں آکر کھڑے ہوئے۔حضرت خالد بن ولید کو عجیب خیال آیا انہوں نے تیر اندازوں کو بلایا اور کہا کہ آگے بڑھو اور فصیل پر کھڑے لوگوں کو تیروں کا نشانہ بناؤ۔پھر کہا میرا تمہیں یہ حکم ہے کہ ایک ہزار آدمیوں 982