تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 965 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 965

تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم وو ارشادات فرمودہ 31 مارچ 1973ء ہمارا تو کل اور ہمارا بھروسہ اللہ تعالی کی ذات پر ہے ارشادات فرمودہ 31 مارچ 1973ء برموقع مجلس مشاورت جہاں تک جماعت احمدیہ سے اس کا تعلق ہے، آج سے کئی سال قبل سیرالیون اور بعض دوسری جگہوں پر بھی ہمارے سکول حکومت نے اپنی تحویل میں لے لیے تھے۔صرف سیرالیون میں چار ہائر سیکنڈری سکول قومیالیے گئے تھے، تو وہاں کی جماعت نے مجھے بھی لکھا کہ اب کیا ہوگا۔میں نے کہا، کچھ نہیں ہوگا۔تم آرام سے بیٹھو، خدافضل کرے گا۔کیونکہ ہمارا بھروسہ اللہ تعالیٰ پر ہے کسی انسان پر نہیں ہے۔کل بھی میں نے اپنے خطبہ جمعہ میں بتایا تھا کہ اس کفر و ایمان کی حقیقت کیا ہے، جس کی بنیاد انسان کی سند یا فتویٰ پر ہو تو کیا انسان کا فتویٰ اسے کافر بنادے گا ؟ ( یہ بات میں اس لیے دہرا رہا ہوں کہ بہت سے دوست جن میں بعض امراء بھی تھے تاخیر سے پہنچے تھے وہ میرا خطبہ نہیں سن سکے تھے ) لیکن جس شخص کو خدا کہتا ہو کہ تو مومن ہے اسے کسی انسان کی سند یا فتوی کی ضرورت نہیں ہوتی۔مجھے تو خدا کہتا ہے کہ تو مومن ہے۔یہ خدا کا فضل ہے اور اس کا رحم ہے۔آپ کو بھی خدا نے یہی کہا ہے۔کسی کو بالواسطہ کہا ہے، کسی کو بلا واسطہ کہا ہے۔پس جس کو خدا کہتا ہے کہ تو مومن ہے۔اس پر ساری دنیا کے مولوی مل کر یا ساری دنیا کی حکومتیں اکٹھی ہو کر کفر کا فتویٰ لگائیں تو اس کے ایمان کی حقیقت تو نہیں بدل سکتی۔البتہ شور مچے گا۔قربانیاں دینی پڑیں گی لیکن جب ایمان کی حقیقت انسانی سند یا فتویٰ پر نہیں تو پھر کفر کا فتویٰ کیا اثر کرے گا۔کیونکہ انسانی مخلوق خدا سے زیادہ طاقتور تو نہیں ہوتی۔میں بتا رہا ہوں کہ ہمارا تو کل اور ہمارا بھروسہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہے اور اسی کی رضا ہمارا منتہائے مقصود ہے۔اور ہمیں ہر وقت خوف رہتا ہے تو اس بات کا کہ کہیں ہم اس کی نگاہ میں گرنہ جائیں۔ہمیں یہ خوف کبھی نہیں ہوا کہ انسان کی نگاہ میں نہ گر جائیں۔انسان سے ہمارا کیا واسطہ اور دنیوی حکومتوں سے ہمارا کیا تعلق؟ حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمد یہ فرماتے ہیں:۔مجھ کو کیا ملکوں سے میرا ملک ہے سب سے جدا مجھ کو کیا تاجوں سے میرا تاج ہے رضوان یار 965