تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 954 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 954

خطبہ عید الفطر فرمودہ 28 اکتوبر 1973ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم کے ظہور کے ساتھ اسلام کی عید دنیا پر نمایاں طور پر ظاہر ہوئی اور یہی ہمارے لئے خوشی منانے اور اچھلے کودنے کا موقع ہے۔یعنی اس بات کے اظہار کا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جس طرح ہم نے پایا اور اس کے پیار کو حاصل کیا اسی طرح نوع انسانی کے لئے الہی رحمت اور پیار کے حصول کے مواقع اب میسر آنے والے ہیں۔یہ صبح صادق کا ظہور اور ہماری عید کی ابتداء ہے اور اس صبح صادق کے ظہور کے بعد وہ زمانہ جب اسلام کا سورج اپنی پوری شان کے ساتھ نصف النہار تک پہنچ کر ساری دنیا کو اپنی نورانی شعاعوں میں لپیٹ لے گا۔وہ ہماری عید کا عروج ہوگا۔یہ عیدیں تو جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس حقیقی عید کی طفیلی عیدیں ہیں۔اگر اسلام نہ ہوتا تو اس مبارک اور حسین شکل میں یہ عیدیں بھی نہ ہوتیں۔پس ہماری یہ عید جسے ہم رمضان کے بعد مناتے ہیں یا حج کے موقعہ پر ہمارے لئے عید الاضحی کی شکل میں خوشی کا ایک اور موقع پیدا ہوتا ہے۔یہ خوشی کے مواقع تو اسی صبح صادق کے ظہور کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں جس کا تعلق اس سراج منیر سے ہے، جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک وجود میں اپنے کامل انوار کے ساتھ دنیا میں جلوہ گر ہوا۔مگران خوشیوں کے ساتھ قربانیوں کا تعلق ہے۔ان خوشیوں کے ساتھ بڑی ذمہ داریوں کا تعلق ہے۔ان خوشیوں کے ساتھ مومنانہ ایثار کا تعلق ہے۔ان خوشیوں کے ساتھ عاشقانہ جانثاری کا تعلق ہے۔ان خوشیوں کے ساتھ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہونے کے جذبہ صادق کا تعلق ہے۔غرض ان خوشیوں کے ساتھ اسلام کو جیسا کہ وعدہ دیا گیا ہے ساری دنیا پر غالب کرنے کے لئے ان انتہائی قربانیوں کے دینے کا تعلق ہے۔جن کا غلبہ اسلام کی مہم آج جماعت احمدیہ اور اس کے افراد سے مطالبہ کر رہی ہے۔پس عید تو دراصل بہت کچھ لینے کے بعد بہت کچھ مزید دینے کے لئے منائی جاتی ہے۔عید تو در اصل ایک نشان اور علامت ہے، اس بات کی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے گذشتہ قربانیوں کے نتیجہ میں ہم نے کچھ حاصل کیا۔عید ہمارے اس عزم کی نشاندہی کرتی ہے کہ ہم نے اپنے رب غفور اور رب کریم سے جو کچھ حاصل کیا، اس میں زیادتی کے لئے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کو پہلے سے زیادہ حاصل کرنے کے لئے ہم پہلے سے زیادہ قربانی دیں گے۔اور ہم اس مقصد کے حصول کی جدو جہد کو تیز کر دیں گے جس مقصد کے حصول کے لئے مہدی معہود علیہ السلام کی بعثت ہوئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک موقع پر فرمایا اور ہی ہماری عید ہے۔آپ فرماتے ہیں۔"یقیناً سمجھو کہ نصرت کا وقت آ گیا۔اور یہ کاروبار انسان کی طرف سے نہیں اور نہ کسی انسانی منصوبہ نے اس کی بناڈالی۔بلکہ یہ وہی صبح صادق ظہور پذیر ہوگئی ہے، جس کی 954