تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 939
تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرموده 19 اکتوبر 1973ء گرچہ یہ کام بڑا اہم ہے اور مشکل بھی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کی حرکت، اس کا پھیلا ؤ اور وسعت روز افزوں ترقی پر ہے۔یہ گویا ایک پہلو ہے حقیقت زندگی کا۔یعنی جماعت دنیا میں پھیل گئی اور سے بڑی وسعت حاصل ہو گئی۔اس حقیقت زندگی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی غرض بعثت یہ تھی کہ اس کرہ ارض پر بسنے والی تمام نوع انسانی کو اکٹھا کر کے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کر دیا جائے۔گویا آج کی زندگی کی یہ ایک دوسری حقیقت ہے۔اور اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ہم فاصلے کے بعد کو ایسی شکل اختیار نہ کرنے دیں کہ تمام دنیا کو امت واحدہ بنانے کا ہمار جو مقصد ہے اس میں کوئی روک یا ستی پیدا ہو جائے یعنی جماعت ہائے احمد یہ جو مختلف ممالک میں بسنے والی ہیں ان کو قریب سے قریب تر لانے کے لئے ایک جدو جہد جاری رہنی چاہیے۔یہ بڑی ضروری بات ہے ورنہ اندیشہ ہے کہ خدانخواستہ اسی طرح نہ ہو جس طرح پہلے ہوا۔جب مسلمانوں کا آپس کا تعلق ٹوٹ گیا۔ایک دوسرے سے قطع تعلق ہو گیا اور مسلمان علیحدہ علیحدہ ٹکڑیوں میں بٹ گئے تو اسلام کی وہ شان و شوکت نہ رہی جو ا سے قرون اولیٰ میں حاصل ہوئی تھی۔اب پھر اللہ تعالیٰ کا منشا ہے کہ اسلام کو بہت بڑے پیمانے پر آخری فتح نصیب ہو گو یا غلبہ اسلام کے لئے ایک جنگ جاری ہے۔جنگ کے شروع میں فتح نہیں ہوا کرتی۔جنگ کے آخر میں فتح ہوا کرتی ہے۔یہ روحانی جنگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں شروع ہوئی۔پھر خلفائے راشدین کی زندگی میں فتوحات ہوئیں اور پھر ان کا سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ اسلام عرب و عجم میں دور دور تک پھیل گیا۔ایک طرف یورپ تک جا پہنچا۔دوسری طرف ترکی اور اس سے آگے یورپ کے دوسرے حصے پولینڈ تک پھیل گیا۔روس میں ایک وقت میں بارہ خوانین ( پٹھانوں ) کے خاندان ریاستوں کی شکل میں خود ماسکو کے اردگرد کے علاقوں میں حکومت کر رہے تھے۔پھر چین میں مسلمان گئے لیکن وہاں اتنی زیادہ وسعت اختیار نہ کر سکے تاہم ایک بڑے پیمانے پر سارے نوع انسان کو اکٹھے کرنے کی مہم جاری ہوگئی۔مگر اب اس سے بھی بڑے پیمانے پر اسلام کوفتوحات حاصل ہونے والی ہیں کیونکہ شیطانی طاقتوں سے اسلام کی یہ آخری اور کامیاب ) جنگ ہے۔کیونکہ اس وقت امریکہ کا کسی کو پتہ نہیں تھا۔آسٹریلیا کا کسی کو پتہ نہیں تھا۔نیوزی لینڈ کا کسی کو پتہ نہیں تھا۔انڈونیشیا کے تعلقات باقی دنیا سے بہت تھوڑے تھے اسی طرح نجی ، آئی لینڈ ، فلپائین وغیرہ کے تعلقات دوسرے خطہ ہائے ارضی سے نہیں تھے۔مگر اب دنیا کے ہر ملک کا دوسرے ملک سے تعلق قائم ہے۔اس لئے اب جہاں جہاں اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کے پاؤں مضبوط کر 939