تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 937
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرموده 19 اکتوبر 1973ء گئی۔مگر 1944 ء تک بیرونی ہندوستان کی جماعتیں مالی قربانیوں میں بہت پیچھے تھیں۔حتی کہ وہ اس قابل بھی نہیں تھیں کہ ان کا نام لیا جاتا۔یعنی ان کے علیحدہ کوئی کھاتے نہیں تھے۔آمد وخرچ کے کوئی رجسٹر نہیں تھے، اخراجات کے بجٹ نہیں بنتے تھے۔گویا ان کی مالی قربانی نہ ہونے کے برابر تھی۔جو لوگ مالی قربانی میں حصہ لینے والے تھے، ان میں شاید 99 فیصد یعنی بھاری اکثریت ان لوگوں کی تھی، جو اس وقت کے متحدہ ہندوستان سے باہر مختلف ملکوں میں آباد ہوئے اور وہیں دولت کما رہے تھے۔اور بڑی بشاشت کے ساتھ خدا تعالیٰ کی راہ میں مالی قربانیاں دے رہے تھے۔پھر 1944ء میں پہلی بار بیرون ملک کی جماعتوں کی مالی قربانیاں بجٹ کے ذریعہ نمایاں ہو کر جماعت کے سامنے آنی شروع ہوئیں اور ہر سال ترقی کرتی چلی گئیں۔یہاں تک کہ میرا خیال ہے کہ اگر اس وقت ہر قسم کی مالی قربانیوں کو اکٹھا کیا جائے تو پاکستان کے مقابلہ میں ( اب متحدہ ہندوستان تو نہیں رہا، جس کی ہم بات کریں۔اب تو ہمارا مرکز پاکستان میں ہے۔اس لئے ہم پاکستان کی بات کریں گے۔) کہ تحریک جدید کی 50 فیصد سے زیادہ مالی قربانیاں بیرون پاکستان کی جماعتیں دے رہی ہیں۔گویا بڑی وسعت پیدا ہوگئی ہے اور اس وقت میں اس وسعت کی بات کر رہا ہوں۔مالی قربانیوں کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔صرف اس وسعت کو بتانے کے لئے میں نے مالی قربانیوں کا ذکر کیا ہے۔چنانچہ نائیجیریا جو ایک بہت بڑا ملک ہے، وہاں بڑی بڑی جماعتیں قائم ہو چکی ہیں۔اور وہاں بڑے بڑے افسرحتی کے صوبوں کے وزرا ء تک احمدی ہیں اور بڑا اخلاص رکھتے ہیں۔وہاں یہ حالت نہیں ہے کہ اکا دکا خاندان احمدی ہو۔مثلاً کچھ عرصہ ہوا ہمیں پتہ لگا کہ سوڈان میں ایک خاندان احمدی ہے۔لیکن وہاں ابھی جماعت نہیں بنی۔لیکن نائیجیریا میں بڑی بڑی جماعتیں ہیں اور سارے ملک میں پھیلی ہوئی ہیں۔پھر غانا ہے، جہاں کی 30لاکھ کی آبادی میں سے تین لاکھ سے زائد احمدی بالغ مرد اور عورتیں ہیں، بچے ان کے علاوہ ہیں۔یہ بھی ایک بہت بڑی جماعت ہے، جو ملک کے مختلف حصوں میں پھیلی ہوئی ہے۔اسی طرح سیرالیون ہے جہاں بہت بڑی جماعتیں ہیں۔پھر افریقہ کے دوسرے ممالک ہیں، جہاں نائیجیریا اور غانا کی طرح بڑی بڑی جماعتیں تو نہیں لیکن وہاں بڑی تیزی کے ساتھ جماعت احمد یہ کو کامیابیاں حاصل ہورہی ہیں۔وہاں کے لوگوں میں بڑی شدت کے ساتھ یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ اگر ہم نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارات میں حصہ دار بنا ہے تو ہمیں جماعت احمدیہ میں شامل ہو جانا چاہیے۔937