تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 935 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 935

تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبه جمعه فرموده 19 اکتوبر 1973ء اسلام کی عزت کی حفاظت کا سوال ہے۔کوئی مسلمان یہ کبھی نہیں کہہ سکتا اور نہ اس کے دل میں یہ خیال ہی پیدا ہوسکتا ہے کہ جہاں اسلام کی عزت اور اس کی حفاظت کا سوال ہو، وہاں اختلاف بھی ہو سکتا ہے۔غرض آپ نے عالم اسلام پر یہ واضح کیا کہ یہ مسئلہ ایسا نہیں ہے، جس میں کوئی اختلاف ہو۔اس لئے ایک ایسے مسئلے میں، جس میں اختلاف کی نہ کوئی گنجائش ہے اور نہ اختلاف کا کوئی تصور پیدا ہو سکتا ہے، تم ایسے مسائل کو بیچ میں کیوں گھسیٹتے ہو، جو اختلافی ہیں؟ اس وقت تو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب متحد ہو کر عزت و حفاظت اسلام کی خاطر قربانیوں کے لئے تیار ہو جائیں۔لیکن اس وقت تو اس عظیم انتباہ کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی اور آج ایک طبقہ ہمارے خلاف باتیں بنارہا ہے۔اس کی تفصیل میں مجھے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔بہر حال ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے اسلام کی عزت کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دیا ہے۔جتنا خدا مانگتا ہے، جماعت احمدیہ دیتی چلی جاتی ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، ولا فخر۔ہمارے اندر کوئی خوبی اور بڑائی نہیں ، جس کے نتیجہ میں ایسا ہوا۔اللہ تعالیٰ کی رحمت نے چاہا کہ وہ اسلام کو غالب کرے اور اللہ تعالیٰ کی اس مرضی کے نتیجہ میں حضرت مہدی معہود علیہ السلام کی بعثت ہوئی اور جماعت احمدیہ کو قائم کیا گیا۔گویا ایک ایسی جماعت دنیا میں پیدا ہو چکی ہے، جو اسلام کی خاطر اور اسلام کو غالب کرنے کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرتی ہے اور قربان کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتی ہے۔پس وہ لوگ جو اس غیر اختلافی مسئلہ میں فساد کی خاطر اور وحدت اسلامی کو کمزور کرنے کی خاطر آج باتیں بنارہے ہیں، ان کو ہم یہ کہہ سکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وزیر اعظم بھٹو کی قیادت میں حکومت پاکستان ، اہل پاکستان سے جس قسم کی قربانی لینا چاہتی ہو، اس میں جماعت احمدیہ نہ صرف یہ کہ دوسروں سے پیچھے نہیں رہے گی بلکہ یہ ثابت کر دے گی کہ وہ ان قربانیوں میں دوسروں سے کہیں آگے ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی توفیق سے۔کیونکہ ہم اللہ تعالیٰ کے وعدوں اور اس کی بشارتوں پر ایمان رکھتے ہیں۔پھر میں کہتا ہوں کہ ہم کمزور ہیں اور ہم میں نہ کوئی طاقت ہے اور نہ کوئی خوبی۔لیکن ہم وہ ذرہ نا چیز ہیں ، جس کو خدا نے اپنے دست قدرت میں پکڑا اور اعلان فرمایا کہ میں اس ذرہ نا چیز کے ذریعہ اسلام کو ساری دنیا پر غالب کروں گا۔اس لئے جن قربانیوں کے دینے کا تصور بھی بعض لوگوں کے دلوں میں خوف پیدا کرتا ہے، ان سے کہیں زیادہ قربانیاں ہم عملاً ایثار کے میدان میں دے دیتے ہیں۔ہماری تاریخ نوع انسانی کی تاریخ اور ملک ملک کی تاریخ ہمارے اس بیان پر شاہد ہے۔935