تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 913 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 913

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 13 جولائی 1973ء اس کے علاوہ بعض دوسرے ضروری کام ہیں۔کچھ اپنا بھی ہے دراصل تو اپنا وہ بھی نہیں ہے۔اس سال مجھے گرمی لگ گئی تھی (اسے انگریزی میں ہیٹ سٹروک کہتے ہیں ) اور اس کے نتیجہ میں میں بڑا کمزور ہو گیا ہوں۔کام کرنے سے مجھے کوفت ہو جاتی ہے۔یہ بیج ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری فطرت کچھ ایسی بنائی ہے کہ وقت آنے پر کافی کام کر سکتا ہوں، لیکن بعد میں پھر مجھے تکلیف بھی اٹھانی پڑتی ہے۔مثلاً اب میں یہاں آ گیا ہوں مجبور ہو کر آپ کے پیار سے۔تاکہ جمعہ کی نماز پڑھاؤں اور آپ کے کانوں میں نیکی کی باتیں ڈالنے کی کوشش کروں۔اس کمزوری کی حالت میں سفر کی تیاری کی وجہ سے میں گذشتہ رات ڈیڑھ سے ساڑھے تین بجے تک صرف دو گھنٹے سوسکا۔پھر ربوہ سے لاہور تک کا موٹر کا سفر تھا۔اس میں بڑی کوفت ہوئی۔پھر ہوائی جہاز کا سفر۔یہاں آتے ہی میں نماز پڑھانے کے لئے آ گیا ہوں۔اگلی رات بھی مجھے جاگنا پڑے گا۔لیکن اگر کوئی جماعتی کام آ گیا تو میں پھر اسی طرح بشاشت سے وہ کام کر رہا ہوں گا۔یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔لیکن اب میں محسوس کرتا ہوں کہ کام کی وجہ سے تھک جاتا ہوں۔میرے اوپر بہت زیادہ جماعتی کاموں کا بوجھ ہو تو جسم کو فت محسوس کرتا ہے۔میرا خیال تھا کہ میں وہاں جا کر پانچ سات دن آرام کروں گا۔اس کے بعد کام کریں گے۔جس طرح آپ کے دلوں میں نظام خلافت کا احترام ہے۔اسی طرح بیرون پاکستان کے احمدیوں کے دل میں بھی خلافت سے بہت پیار ہے۔وہ تو بیچارے میرے جانے پر مختلف کاموں کی وجہ سے تھکے ہوئے ہوتے ہیں، مگر کام کئے جاتے ہیں۔دراصل خلافت ایک انسٹی ٹیوشن ہے۔ایک فرد نہیں ہے۔یہ وہ چیز ہے جس کے متعلق میں نے ڈنمارک کے پادریوں سے کہا تھا کہ تمہارا سوال غلط ہے۔انہوں نے پوچھا تھا آپ کا مقام جماعت احمدیہ میں کیا ہے؟ میں نے جواب دیا تھا میں اور جماعت احمدیہ ایک ہی وجود کے دو نام ہیں۔اس واسطے میرا مقام جماعت احمدیہ میں کیا ہے یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔پس ہمارا ایک وجود ہے مثلاً میری انگلیوں پر چوٹ آئی ہو اور مجھے ان پر دوائی لگانی ہو تو میں رات پھر چوکس اور بیدار ہوں گا اور رات کو اٹھ اٹھ کر دوائی لگاؤں گا۔تو جماعت احمد یہ جو خدا کے لئے کام کر رہی ہے ، اس کے لئے بھی میں رات کو بھی اٹھوں گا اور کام کروں گا۔مجھے یاد ہے 1947ء میں میں دو مہینے تک رات کو سو یا ہی نہیں تھا ورنہ عام طور پر میری عادت ہے کہ سات آٹھ گھنٹے نیند پوری کر لوں تو دماغ چوکس اور بیدار رہتا ہے۔بچپن سے یہی عادت رہی ہے۔لیکن جب کام پڑ جاتا ہے تو پھر یہ عادت چھوڑ نی پڑتی ہے۔یہی حال 1947ء میں تھا، جب کہ بہت کام در پیش تھا۔احباب جماعت کے لئے بہت کام 913