تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 912 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 912

اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 13 جولائی 1973ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم جگہ پر کھڑا کر دے۔کھڑا ہونے یا بے حرکت ہونے یا مر جانے کے لئے ہم پیدا ہی نہیں ہوئے۔ہم تو زندہ رہنے اور زندہ کرنے اور ہمیشہ متحرک رہنے اور حرکت میں شدت پیدا کرتے چلے جانے کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔جب تک انتہائی اور آخری کامیابی حاصل نہ ہو اور تمام دنیا پر اسلام غالب نہ آجائے۔ہم ایک لمحہ کے لئے دم نہیں لیں گے۔اور ہر وقت خدمت دین میں کوشاں رہیں گے۔یہی وہ غرض ہے جس کے لئے ہم پیدا ہوئے ہیں اور جس کے لئے سلسلہ احمدیہ قائم کیا گیا ہے۔غرض جہاں تک پریس کے قیام کا تعلق ہے، کام ہورہا ہے۔اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ایک سال کے عرصہ میں مکمل ہو جائے گا۔مگر خدا تعالیٰ کی یہ شان ہے کہ ابھی پر نیں مکمل نہیں ہوا۔ابھی اس کے مکمل ہونے میں ایک سال لگ جائے گا۔لیکن خدا تعالی کا یہ منشاء مجھ پر ظاہر ہوا کہ یہ تو کافی نہیں ہے، جماعت احمدیہ کے سپر د جومہم کی گئی ہے۔اس طرح ایک چھاپہ خانہ اور وہ بھی پاکستان میں یہ تو کافی نہیں ہے۔اس لئے ایک اور چھا پہ خانہ لگایا جائے۔چنانچہ مجھے اس کی یہ تفہیم ہوئی کہ ایک مطبع یورپ میں کسی جگہ اور ایک افریقہ میں کسی جگہ لگ جانا چاہئے۔اور اس کے لئے ابھی سے تیاری ہونی چاہئے کہ اس غرض کے لئے کون سا ملک زیادہ مناسب ہے۔اور اس ملک میں کون سے شہر زیادہ مناسب ہیں اور اس غرض کے لئے کتنی زمین درکار ہے اور وہ کس قیمت پر ملے گی۔زمین لینے میں دیر لگے گی۔پھر اس پر پریس کی عمارت کھڑی کرنے میں وقت لگے گا۔اس غرض کے لئے دو چار سال لگ جائیں گے۔جو پریس پاکستان میں لگ رہا ہے، جب یہ کام کرنے لگ جائے گا تو اتنے میں وہ (یورپ اور افریقہ کے پریس) بھی تیار ہو کر اپنا کام شروع کر دیں گے۔اشاعت قرآن کریم کے سلسلہ میں ہم نے ابھی تک جو کوشش کی ہے۔اس کا اثر افریقہ خصوصاً مغربی افریقہ میں بہت زیادہ ہوا ہے۔وہیں زیادہ تعداد میں قرآن کریم گئے ہیں۔یورپ اور امریکہ میں بہت کم تعداد میں گئے ہیں کیونکہ وہاں کے لوگ عادتاً اچھے اور عمدہ کاغذ پر خوبصورت رنگ میں چھپے ہوئے قرآن کریم پڑھنا چاہتے ہیں۔ان کے لئے ہمیں اچھے کاغذ کا انتظام کرنا پڑے گا۔وہ بھی انشاء اللہ ہو جائے گا۔اس غرض کے لئے اور علاوہ ازیں کئی اور جماعتی کام تھے۔میرا ارادہ بدلا۔پہلے میرا خیال تھا کہ اس سال انڈو نیشیا جائیں گے۔ان سے میں نے وعدہ بھی کیا ہوا ہے اور ان کا حق بھی ہے۔لیکن اشاعت قرآن عظیم کی خاطر جب یہ چیزیں میرے ذہن میں ڈالی گئیں۔تو میں نے ارادہ کیا کہ مجھے انگلستان جانا چاہئے اور وہاں مختلف کمیٹیاں بنا کر اس منصوبہ پر عمل درآمد شروع کر دینا چاہئے۔پھر یہ بھی دیکھنا ہے کہ پیسے کہاں سے آئیں گے اور بہت سے باتیں ہیں جن پر انشاء اللہ وہاں جا کر غور کریں گے۔912