تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 882
خطبه جمعه فرمودہ 23 مارچ1973ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چهارم گا۔لیکن اب حالات بدل گئے اور یہ حالات اس طرح بدلے۔اور ہماری تبلیغ کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس طرح دروازہ کھولا کہ جب میں 1970ء کے مغربی افریقہ کے دورہ میں نائیجیریا میں تھا، تو ایک دن ریڈیو پر یہ خبر آئی کہ سکو تو کے گورنر فاروق کا بینہ کے اجلاس میں شمولیت کے لئے (آٹھ نو سو میل دور اپنی سٹیٹ سے) آئے ہیں۔ہوائی اڈہ پر صحافیوں کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سکو تو کی ریاست تعلیم میں بہت پیچھے ہے۔اس لئے انہوں نے تعلیمی محاذ پر اپنی ریاست میں ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا ہے اور وہ امید رکھتے ہیں کہ لوگ ان کے ساتھ تعاون کریں گے۔ہمیں تو سفر میں بڑی مصروفیت رہتی تھی۔اسلئے کبھی ریڈیو کی خبریں سنتے تھے اور کبھی نہیں سنتے تھے۔لیکن خدا نے یہ خبر سنانی تھی اس لئے اتفاقا یہ خبر سن لی۔میں نے صبح سویرے ایک افریقن احمدی بھائی کو ان کے پاس بھیجا کہ میری طرف سے ان سے کہو کہ اس طرح ریڈیو پر ہم نے یہ خبر سنی ہے کہ آپ نے اپنے صوبہ میں تعلیمی محاذ پر ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا ہے۔میں آپ کے صوبہ میں چار سکول کھولنے کی پیشکش کرتا ہوں۔دور کیوں اور دولڑکوں کے لئے۔آپ ہم سے تعاون کریں تو انشاء اللہ جلدی کھل جائیں گے۔اور ہم دو باتوں میں تعاون چاہتے ہیں ایک یہ کہ آپ ہمیں سکولوں کے لئے زمین دیں۔کیونکہ ہم پاکستان سے زمین نہیں لا سکتے۔دوسرے یہ کہ ہمارے اساتذہ کے مظہر نے کا اجازت نامہ دیں۔اس کے بغیر وہ ٹھہر نہیں سکتے۔چنانچہ وہ اس پیشکش کو سن کر بڑے خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ میں پورا تعاون کروں گا۔بعد میں انہوں نے ہمارے ساتھ واقعی تعاون بھی کیا۔دوسکولوں کے لئے قریباً چالیس، چالیس ایکڑ زمین دی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے دوسکول وہاں کھل چکے ہیں۔جن میں ابتدائی کلاسیں شروع ہو چکی ہیں۔آہستہ آہستہ ترقی ہوگی۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا ہے یہ 1970ء کی بات ہے۔ابھی پونے تین سال ہی ہوئے ہیں کہ پچھلے سال وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا کہ سارے سکول قومی ملکیت میں لے لئے جائیں اور ان کا معاوضہ ادا کیا جائے اور اگر باہر کے اساتذہ رہنا چاہیں تو ان کو رکھ لیا جائے۔نیز یہ کہ ہر ریاست اپنے اپنے حالات کے مطابق اس سکیم پر عمل کرے۔چنانچہ سکو تو نے سب سے پہلے سکولوں کو قومی ملکیت میں لینے کا فیصلہ کیا۔جہاں تک ہمارے سکولوں کا تعلق ہے ، گوان کیلئے زمین تو انہوں نے ہی دی تھی لیکن اس پر عمارتیں ہم نے بنائی تھیں۔قریباً چار چارلاکھ روپیدان پر خرچ آیا تھا۔ہم نے خرچ کیا کیا؟ خدا نے دیا تھا۔و ہیں خرچ کر دیا اللہ کے نام کی سربلندی کے لئے۔جب مجھے اطلاع ملی کہ حکومت نے ہمارے سکول قومی ملکیت میں لے لئے ہیں تو میں نے کہا بڑا اچھا کیا۔انہوں نے ان کو قومی ملکیت بنالیا ہے۔ہم تو ان کی 882