تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 881
تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم - خطبہ جمعہ فرمودہ 23 مارچ 1973ء بھائی تھے جو بہت بڑے بزرگ عالم تھے اور بعض بڑی اچھی عربی کتابوں کے مصنف بھی تھے۔بڑی اچھی عربی لکھنے والے تھے۔میں نے خود ان کی بعض کتابیں پڑھی ہیں۔کچھ تو نایاب تھیں۔حال ہی میں ان کی دوبارہ اشاعت ہوئی ہے۔جن میں سے کچھ ہمیں بھی ملی ہیں۔بعض کی تلاش ہورہی ہے۔غرض وہ بڑے سمجھدار، دینی تفقہ اور روحانی فراست رکھنے والے بزرگ تھے۔حضرت عثمان فوری کے ایک لڑکے تھے، جن کا نام محمد بن عثمان تھا۔یہ بھی بڑے عالم اور متقی انسان تھے۔حضرت عثمان فودی نے اپنی وفات سے قبل وہ علاقہ جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے ہاتھ پر غلبہ اسلام کے لئے فتح ہوا تھا۔اس وقت کے جغرافیہ کے لحاظ سے اسے تین حصوں میں تقسیم کر دیا تھا ( بعد میں بعض جغرافیائی تبدیلیاں بھی ہوتی رہی ہیں)۔ایک حصہ سیاسی لحاظ سے اپنے بھائی کو دیا اور ایک حصہ اپنے بیٹے محمد بن عثمان کو دیا تھا۔یہ ان کی وفات کے بعد ان کے خلیفہ بھی بنے اور امیر المومنین کے لقب سے معروف ہوئے۔حضرت عثمان خودی کا ایک اور بیٹا بھی تھا جو ان کی وفات کے وقت چھوٹا تھا۔شاید اسی لئے ان کی مہمات دینیہ یعنی جہاد اور اشاعت اسلام اور احیائے سنت کے لئے ان کی جو کوششیں تھیں، ان میں اس چھوٹے بیٹے کا نام نہیں۔لیکن جب بعد میں وہ بڑے ہوئے تو ایک تہائی حصہ ان کے تصرف میں آیا۔چنانچہ اس چھوٹے بیٹے کے علاقہ کا ایک حصہ کا نو کے صوبہ میں شامل ہے۔جس میں اس کی نسل آباد ہے۔اس وقت بھی ان کا مذہبی اثر ورسوخ بہت ہے۔حضرت عثمان فودگی کے جو بیٹے خلیفہ بنے تھے۔یعنی محمد بن عثمان ان کا جو علاقہ اور صوبہ ہے، اس کو سکو تو کہتے ہیں۔ان کی نسل کے دینی رہنما سلطان آف سکو تو کہلاتے ہیں اور کانو والے امیر آف کا نو کہلاتے ہیں۔سکو تو کا صوبہ ہم سے دور دور رہتا تھا۔اب دیکھیں خدا تعالیٰ کی شان وہ کتنا فضل کرنے والا ہے۔میں مصلحت کسی کا نام نہیں لوں گا اور نہ ان کے عہدے بتاؤں گا۔تا ہم آپ سمجھ جائیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح ہماری کوتاہیوں کے باوجود احمدیت کی اشاعت کے وہاں سامان پیدا کئے۔ایک تو اس طرح کہ سکو تو کے جو باشندے تجارت یا دوسرے کاموں کے سلسلہ میں نائیجیریا کے دوسرے حصوں میں یا غیر ممالک کو چلے گئے تھے ، ان میں سے بہت سے خاندان اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی ہو گئے۔پھر ان میں سے بہت سارے خاندان اپنے وطن واپس آگئے۔اور کچھ اس طرح کہ سکو تو کے بعض بچے ایسے سکولوں میں پڑھے، جہاں احمدی کام کر رہے تھے یا سکول کے علاوہ ہمارے احمدی دوستوں سے انہوں نے تعلیم حاصل کی اور وہ بچپن میں احمدی ہو گئے۔چنانچہ اب جب کہ یک دم تبلیغ کا دروازہ کھلا تو پتہ لگا کہ یہاں تو پہلے سے احمدی موجود ہیں۔پہلے تو اس علاقہ میں کسی احمدی مبلغ کے لئے شاید تقریر کرنا بھی مشکل ہوتا ہو 881