تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 880
خطبه جمعه فرمودہ 23 مارچ1973ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم کرنی چاہئے۔میں نے اُن کو یہی جواب دیا کہ ہم وہاں ان کی خدمت کیلئے گئے ہیں۔جس وقت بھی وہ قو میں، جس حد تک طبی مراکز اور کالج سنبھالنے کے قابل ہو جائیں گی ، ہمارے لئے خوشی کا باعث ہوگا اور ہم بشاشت کے ساتھ ان کو پیش کر دیں گے کہ یہ لو اپنی چیز اور اس کو سنبھالو۔لہذا خرچ کی راہ میں یہ امر میرے لئے روک نہیں بن سکتا۔میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ نائیجیریا میں نئے دستور کے مطابق موجودہ حکومت نے بارہ صوبے جن کو وہ امریکہ کی طرح سٹیمیں کہتے ہیں) بنا دیئے ہیں۔چھ شمالی صوبے ہیں، جن میں بہت بھاری اکثریت مسلمانوں کی ہے۔شمالی صوبوں میں شاید 98-99 فیصد مسلمان آباد ہیں۔چھ صوبے جنوب میں ہیں ، جن میں بعض جگہوں پر غیر مسلم کچھ زیادہ ہیں اور بعض جگہوں پر وہاں بھی 45-46 فیصد مسلمان آباد ہیں۔گویا نائیجیر یا حقیقتاً ایک مسلمان ملک ہے۔ان کی اپنی ایک تاریخ، اپنا ایک شاندار ماضی ہے قوموں پر ابتلاء آتے رہتے ہیں۔نائیجیرین قوم بھی بعض لحاظ سے ایک ابتلاء میں سے گذر رہی ہے۔لیکن اس وقت جوسر براہ مملکت ہیں اور جن کا نام یعقو بو گوون ہے۔وہ دل کے بڑے اچھے ہیں۔مسلمانوں کا اسی طرح خیال رکھتے ہیں۔جس طرح عیسائی بھائیوں کا رکھتے ہیں۔عیسائیوں اور مسلمانوں میں کوئی تمیز روانہیں رکھتے۔خدا تعالیٰ نے اُن کو بڑا پیار کرنے والا دل اور بڑا سمجھدار دماغ عطا فرمایا ہے۔نائیجیریا کا یہ شمالی حصہ عیسائیت کی مخالفت کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے پرانے خیالات کی وجہ سے احمدیت کی تبلیغ پر اپنے دروازے بند رکھتا تھا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے کا نو میں ایک کلینک (اب تو وہ بڑی اچھی عمارت والا ہسپتال بن گیا ہے ) کھلوایا۔کا نو نائیجیریا کا ایک صوبہ (سٹیٹ ) ہے اور شمال میں واقع ہے۔حضرت عثمان فوری جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پہلی صدی میں نایجیریا کے مجدد تھے اس شمالی علاقے کے رہنے والے تھے۔ہر صدی میں بہت سے مجدد ہوتے رہے ہیں۔یہ بھی ان میں سے ایک تھے۔ان کے متعلق اللہ نے اس وقت کے اپنے پیارے بندوں کو بشارت دی تھی۔ان کی پیدائش کے وقت یا اس سے بھی پہلے کہ وہاں ایک مجدد پیدا ہونے والا ہے۔چنانچہ جب انہوں نے تجدید دین کا کام شروع کیا تو ان پر کفر کا فتوی بھی لگا۔وہ واجب القتل بھی قرار دئیے گئے۔ان کے خلاف عملاً میان سے تلوار بھی نکالی گئی۔لیکن چونکہ وہ خدا کے پیارے تھے۔اللہ تعالیٰ نے آسمان سے اپنی طاقتوں کے تار ہلائے اور ان کو مخالفوں کے ہر شر سے محفوظ رکھا۔وہ اپنے مشن میں کامیاب ہوئے۔نائیجیریا میں بھی اور اس کے ساتھ کے دوسرے ملکوں میں بھی ان کا اثر ورسوخ بڑھ گیا۔ان کی وفات کے وقت ان کے ایک 880