تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 72 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 72

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 19 اگست 1966ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اسی طرح بہت جگہ سے یہ شکایت آتی رہتی ہے کہ بعض خاندانوں میں رسوم اور بد عادات عود کر رہی ہیں۔مثلاً شادی کے موقع پر اسراف کی راہوں کو اختیار کیا جاتا ہے اور بلاضرورت محض نمائش کے طور پر بہت سا خرچ کر دیا جاتا ہے۔بعض لوگ تو اس کے نتیجہ میں مقروض ہو جاتے ہیں اور پھر ساری عمر ایک مصیبت میں گزارتے ہیں۔یہ تو وہ سزا ہے، جو اللہ تعالیٰ ان کو اس دنیا میں دے دیتا ہے۔لیکن ایک اور سزا ہے، جو بظاہر ان کو نظر نہیں آتی کہ اس کے نتیجہ میں وہ بہت سی ایسی نیکیوں سے محروم ہو جاتے ہیں کہ اگر وہ سادگی کو اختیار کرتے ، اگر وہ رسوم کی پابندی چھوڑ دیتے تو اللہ تعالیٰ ان کو ان نیکیوں کی توفیق عطا کرتا اور ان کو اس دنیا میں بھی اور اخروی زندگی میں بھی ایسی نعمتیں حاصل ہوتیں کہ دنیا کی لذتیں اور دنیا کے عیش اور ان کی نمائش ان کے مقابلہ میں کوئی حیثیت ہی نہ رکھتیں۔پس جماعت کو چاہیے کہ تحریک جدید کے ان مطالبات کو دہراتی رہے اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کرے۔تا کہ اس طرح وہ اپنے پیسوں کو بچا سکے اور اس کی قربانی کی قوت اور استعداد پہلے کی نسبت بڑھ جائے۔اور وہ اپنی اس بڑھی ہوئی حیثیت اور طاقت کے مطابق قربانی کرنے والی ہو۔اس طرح دوست پہلے سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والے ہوں گے۔3:۔تیسری بات جس کی طرف قرآن کریم ہمیں متوجہ کرتا ہے، وہ جذبہ ایثار ہے اور شُح نفس سے بچنا ہے۔جب یہ جذبہ پیدا ہو جائے تو انسان بہت سی جائز ضرورتوں کو بھی کم کر سکتا ہے۔صحت کو نقصان پہنچائے بغیر اور، اور کسی قسم کا حقیقی نقصان اٹھائے بغیر۔تو جب جذبۂ ایثار بڑھ جائے تو قربانی کرنے کی قوت اور استعداد بھی بڑھ جاتی ہے اور اس کا ذریعہ دعا ہے۔ہمیں ہر وقت یہ دعا بھی کرتے رہنا چاہیے کہ اے خدا! تو نے ایک نور قرآن کریم کی شکل میں نازل کیا۔اس میں جہاں تو نے ہمیں اور بہت سی حسین ہدایتیں اور احکام دیئے ہیں، وہاں انفاق فی سبیل اللہ کے متعلق بھی بڑی ہی حسین اور وسیع تعلیم تو نے ہمارے سامنے پیش کی ہے۔اور ہمیں بتایا ہے کہ اگر ہم تیری راہ میں ان طریقوں پر جو تو نے بتائے ہیں، اپنے اموال کو خرچ کرنے والے ہوں گے تو تو بہت سے انعامات اور فضل ہم پر نازل کرے گا۔تو اے خدا! تو ہمیں اپنے فضل سے اس بات کی توفیق عطا کر کہ ہم اس ہدایت پر عمل پیرا ہونے والے ہوں تا کہ ہم تیری نعمتوں اور فضلوں کو حاصل کر سکیں۔پس ہم ان تین طریق سے اپنی قوت اور استعداد کو بڑھا سکتے ہیں۔تو جیسا کہ میں نے شروع میں بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ ہم اپنی طاقت سے بڑھ کر اس کی راہ میں قربانی دیں۔72