تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 857
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم ارشادات فرمودہ یکم اپریل 1972ء سال کا تجربہ تھا اس نے ان افریقن بچوں سے اختلافی مسئلوں پر بات شروع کر دی۔انہوں نے اردو میں ایسے اچھے جواب دیئے کہ وکیل صاحب ہمارے ایک بزرگ احمدی سے کہنے لگے کہ تم پندرہ سولہ سال سے مجھے یہ مسئلہ سمجھاتے رہے ہو اور تم مجھے خاموش نہیں کرا سکے۔مگر اس بچے نے مجھے دو فقروں میں خاموش کرا دیا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑا جذ بہ دیا ہے، سمجھ دی ہے۔لیکن دعاؤں کی ہمیں بہر حال ضرورت ہے تا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل جاری رہیں۔ان کا تسلسل ٹوٹ نہ جائے اور جو رشتہ ہے، وہ منقطع نہ ہو جائے۔وہ تسلسل تو بہر حال جاری رہنا چاہئے ، یہ ٹھیک ہے"۔"۔۔۔ایک امریکن دوست مجھے ملنے آئے۔ان سے میں نے کہا کہ میں نے بڑے سائز کی حمائل قرآن کریم افریقہ کے لئے چھپوائی ہے، اس کی پانچ شلنگ قیمت رکھی ہے۔میں نے ان سے کہا کہ میں نے امریکہ میں بھی بھیجنا ہے۔وہ کہنے لگے، خدا کے لئے وہاں اس کی قیمت پانچ شلنگ نہ رکھیں۔ور نہ امریکن سمجھیں گے کہ یہ کوئی فضول چیز ہے۔اس کے لینے کی ہمیں ضرورت نہیں ہے۔کیونکہ پانچ شلنگ ان کے نزدیک کوئی قیمت ہے ہی نہیں۔وہ تو کہتے تھے کہ اس کی قیمت دس ڈالر رکھیں یعنی ساٹھ روپے۔میں نے کہا، میرا تو یہ دل نہیں مانتا۔آخر میرادل اڑھائی ڈالر پر مان گیا۔لیکن اب ان کے ساتھ جو خط و کتابت ہوئی ہے، اس کے نتیجہ میں وہاں سے یہ اطلاع ملی ہے کہ بعض بڑی بڑی کمپنیاں ، جو تھوک میں آگے کتا میں تقسیم کرتی ہیں، جس کے ایجنٹوں کا دنیا بھر میں جال پھیلا ہوا ہے، وہ ساٹھ فی صد کمیشن مانگتی ہیں۔اس واسطے انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ جو قیمت رکھنی ہو، اس میں ان کا کمیشن جمع کر دیں اور یہاں سے وہاں تک پہنچنے میں جو خرچ آئے گا، وہ بھی شامل کر لیں۔ہم اس کو لاکھوں کی تعداد میں مارکیٹ میں رکھوادیں گے۔اگر اس میں ہم کامیاب ہو جائیں تو میں نے ایک لاکھ کاپی کا پہلا ٹارگٹ ان کے لیے رکھا ہے۔قرآن کریم کا یہ ترجمہ ایک لاکھ تعداد میں وہاں بھجوایا جائے گا۔اس طرح کوئی پندرہ ، ہمیں لاکھ روپیہ ہمارے ملک کو فارن اینج بھی مل جائے گا۔اس میں ملکی قانون کے مطابق ہمارا حصہ بھی ہے۔اس سے ہمیں بھی سہولت پیدا ہو جائے گی۔دل یہ کرتا ہے کہ کہ جو چیز امریکہ میں جائے ، وہ بہت ہی اچھی ہو۔کیونکہ ہم نے وہاں مقابلہ کرنا ہے، بہت اچھی طباعت اور اچھے کاغذ کے ساتھ۔دنیا جس کو بائبل پیپر کہتی ہے، میں اس کو قرآن پیپر کہتا ہوں۔آپ بھی اسے قرآن پیپر کہا کریں۔اصل تو ہر چیز اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے لئے پیدا کی ہے۔اس پیپر کے اوپر شائع کریں گے تو اس سے بھی طباعت کا معیار زیادہ اچھا ہو جائے گا۔یہ آپ ( شیخ محمد حنیف صاحب بھی دیکھ لیں، یہ دیکھنے کے لئے ہے۔قیمتاً مولوی ابو المنير 857