تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 835
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 03 نومبر 1972ء استعمال کر کے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ تم لوگوں کو یاد دلاتے رہا کرو۔کیونکہ بعض دفعہ ایک انتہائی مخلص انسان بھی سستی کر جاتا ہے۔پس ذکر یعنی یاد دہانی کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ جس آدمی کو یاد دہانی کرائی جا رہی ہے، اس کے اندر اخلاص نہیں ہے۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جس کو ذکر کی یاددہانی کرنے کی نصیحت کی گئی تھی ، اس نے اس حکم پر عمل نہیں کیا۔پس یہ ایک چیلنج ہے، جو رمضان کا یہ آخری جمعہ ہمیں دے کر رخصت ہو رہا ہے۔ہمیں یہ بھی کہا گیا ہے کہ زمانے کے لئے بھی دعا کرو۔چنانچہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ زمانے کو برا بھلا نہ کہو۔جس کا مطلب یہی ہے کہ زمانے کو اچھا کہو۔اس کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ زمانے سے کہو، تیرا شکریہ ! چنانچہ اس کے متعلق حدیث میں ایک معنی یہ بھی بیان ہوئے ہیں کہ زمانہ کوئی چیز نہیں، اصل تو خدا تعالیٰ ہی ہے۔پس جب اصل خدا تعالیٰ ہی ہے تو پھر زمانہ کو برا بھلا نہ کہو کے مقابل پر آئے گا۔الحمد للہ پڑھو۔اور الحمد للہ ان نعمتوں کو دیکھ کر پڑھی جاتی ہے، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں۔پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر زمانہ میں خدا تعالیٰ کے پیار اور اس کی رضا کی تلاش میں ایک گروہ ، ایک جماعت کوشاں ہوتی ہے اور وہ مجاہدہ میں مصروف ہوتی ہے۔غرض جس زمانہ میں رضائے الہی اور محبت الہی کے حصول کے لئے انسانوں کی ایک جماعت کی جماعت (اگر چہ کبھی چھوٹی ہوتی ہے اور کبھی بڑی ہوتی ہے لیکن کوئی زمانہ اس سے خالی نہیں ہوتا ) جب کوشاں ہوتی ہے، اس کے لئے مجاہدہ کر رہی ہوتی ہے تو اس زمانہ کوتم کیسے برا کہو گے؟ چنانچہ اس معنی کے اعتبار سے ہم یہ کہیں گے کہ زمانہ کے لئے بھی دعائیں کرو۔پس ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اے آج کے یوم الجمعة! تیرے اندر زندگی گزارنے والی وہ جماعت جو خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہے، خدا کرے کہ تیرا وجود دن کے لحاظ سے ان کے لئے ایک بابرکت دن بنے۔جس میں وہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور اس کی برکتوں کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے والے ہوں۔اے خدا تو ایسا ہی کر“۔مطبوعه روزنامه الفضل 22 نومبر 1972ء) 835