تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 834
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 03 نومبر 1972ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم نہیں۔آپ بعض لوگوں کو چھ مہینہ کا عرصہ کیوں دیتے ہیں؟ آپ سوچیں گے ، آپ کو شرم آئے گی۔آپ غصہ کے خط لکھیں گے کہ پہلے تاریخ کیوں نہیں بدلوائی؟ بہر حال 31 دسمبر تک یہ وعدے دفتر وکالت مال میں پہنچ جانے چاہئیں۔میں اس سلسلہ میں دو جماعتوں کو اچھی مثال کے طور پر اپنے بھائیوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ایک اسلام آباد کی جماعت ہے۔سات لاکھ نوے ہزار کے ٹارگٹ کے مطابق ان کے حصہ میں، جور تم آئی تھی، وہ انہوں نے ادا کر دی ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں بہترین جزا عطا فرمائے۔دوسری کراچی کی جماعت ہے۔انہوں نے بذریعہ تار اطلاع دی ہے کہ سال رواں کے تحریک جدید کے وعدوں کی سوفی صدی وصولی کرلی ہے۔وہ کچھ رقم بھجوا چکے ہیں اور باقی ماندہ بھجوار ہے ہیں۔ٹارگٹ کے لحاظ سے جور قم ان کے حصہ میں آتی تھی ، وہ انہوں نے ادا کی ہے یا نہیں؟ اس کا تو تار میں ذکر نہیں۔تاہم اس وقت جب کہ اکثر جماعتوں کی ادائیگی سو فیصد نہیں ہوئی۔انہوں نے چھ مہینے پہلے تحریک جدید کا وعدہ سو فیصد پورا کر دیا ہے۔فجزاهم الله تعالى خيراً۔دیسے تحریک جدید کا نیا سال یکم نومبر سے شروع ہوتا ہے۔یہ تو کچھ سہولتیں جماعت کے مختلف چندوں کی وصولی کو پیش نظر رکھتے ہوئے جماعت کو دی گئی تھیں۔بہر حال ایسی جماعتیں چند ایک ہی ہیں، جو وقت سے پہلے سو فیصد ادائیگی کر دیتی ہیں۔اس سلسلہ میں کراچی کی جماعت قابل ذکر ہے۔ان کی طرف سے سال رواں کا وعدہ ایک لاکھ سولہ ہزار کا تھا۔اب انہوں نے نیا وعدہ ایک لاکھ، ہیں ہزار روپے کا بھجوایا ہے۔اسی طرح لاہور کی جماعت ہے، راولپنڈی کی جماعت ہے، پشاور کی جماعت ہے۔پانچ، سات بڑی بڑی جماعتیں ہیں، جو تحریک جدید ( اور دوسرے چندوں کا بھی ) بڑا بوجھ اٹھاتی ہیں۔اب مثلاً تحریک جدید کے سال رواں کے بجٹ میں سے ایک لاکھ ، سولہ ہزار روپے کا بجٹ کراچی نے پورا کیا ہے۔جو پاکستان میں تحریک کے چندوں کے سارے بجٹ کا قریباً پانچواں حصہ ہے۔گویا میں فیصد بوجھ صرف کراچی کی جماعت نے اٹھا لیا ہے۔ان کے علاوہ بھی بہت سی جماعتیں نومبر تک یہ چندہ ادا کرسکتی ہیں یا کم از کم دسمبر سے پہلے دے سکتی ہیں اور ان کو دینا چاہیے۔تاہم اگر بر وقت ادائیگی نہیں ہوتی تو اس میں ان کا اتنا قصور نہیں جتنا لینے والوں کا قصور ہے۔دفتر انہیں یاد دہانی نہیں کراتے۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے یوں ہی بلا وجہ ”ذکر“ کی نصیحت نہیں فرمائی۔خدا تعالیٰ نے مختلف پہلوؤں سے مختلف محاورے استعمال کر کے مختلف مضامین کے ضمن میں ”ذکر“ کا لفظ 834