تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 824
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 18 اگست 1972 ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم میں نے اس وقت تک یورپ کے دو دورے کئے ہیں۔مجھے وہاں یہ عجیب بات نظر آئی کہ عیسائیت غائب ہے اور اسلام دشمنی قائم ہے۔پہلی بار جب میں 1967ء میں وہاں دورے پر گیا تھا تو دو جگہ مجھ سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ آپ ہمارے ملک میں اسلام کو کیسے پھیلائیں گے؟ میں نے اس سوال کا یہ جواب دیا تھا کہ تمہارے دل جیتیں گے اور اسلام پھیلائیں گے۔ایک پریس کانفرنس میں 25-20 صحافی یہ جواب سن کر بلا مبالغہ سن ہو کر رہ گئے تھے۔ایک منٹ تک تو ان کے منہ سے کوئی بات نہیں نکل سکی تھی۔کیونکہ انہوں نے ساری عمر یہ سن رکھا تھا کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے۔اور ان کا سوال دراصل اسلام پر یہ طعن تھا کہ اسلام تو تلوار کے زور سے پھیلتا ہے، تلوار ہم نے اسلام کے ہاتھ سے چھین لی ہے، اب تم ہمارے ملکوں میں اسلام پھیلانے کے لئے کیا جھک مارتے پھرتے ہو۔لیکن جس وقت انہوں نے میرا یہ جواب سنا تو مبہوت ہو کر رہ گئے۔غرض اسلام کو پھیلانے کے لئے تلوار کی ہمیں ضرورت ہی نہیں۔ہم لوگوں کے دل جیتیں گے اور اسلام پھیلائیں گے۔کیونکہ اسلام کی تعلیم کے اندرا اتنا حسن و احسان موجود ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے تلوار کی ضرورت ہی نہیں ہے۔میں چونکہ پہلے بھی اپنے کئی خطبات میں اس مضمون پر روشنی ڈال چکا ہوں، اس لئے تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔تاہم میں بتانا چاہتا ہوں کہ اس وقت ادیان باطلہ کے خلاف ہماری زبردست جنگ جاری ہے۔اس وقت دنیا کا جاہل بھی اور پڑھا لکھا طبقہ بھی، دنیا کا مذہبی بھی اور خدا کو گالیاں دینے والا گروہ بھی اسلام پر حملہ آور ہے۔ہم نے نہ صرف اسلام کا دفاع کرنا ہے بلکہ دنیا کو اسلام کے حسن و احسان کا گرویدہ بنا کر اسے محسن انسانیت حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں لا ڈالنا ہے۔یہ کام بڑا ہی عظیم کام ہے۔جتنا یہ عظیم الشان کام ہے، ہم پر اتنی ہی زیادہ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔اس لئے ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ہماری جو نوجوان نسل ہے، وہ ہمارے سید و مولا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اسلامی فوج میں بھرتی ہونے کے قابل نہ ہو اور غیر تربیت یافتہ ہو۔(مطبوعه روزنامه الفضل 10 ستمبر 1972ء) 824