تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 67
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم تقریر فرموده 08 مئی 1966ء ہمارے ملک کو پیش آئی یا جتنے ہنگامی حالات ہمارے ملک میں پیدا ہوئے ، اس سے کہیں زیادہ ہنگامی حالات احمدیت اور اسلام کو آج دنیا میں پیش آرہے ہیں۔ان حالات کے پیش نظر جہاں ہمیں لمبی تربیت کے بعد با قاعدہ مربی تیار کرتے رہنا چاہیے، وہاں ہمارے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ شارٹ کورس کی بنیاد کو چھ ماہ سال یا ڈیڑھ سال تک پڑھے لکھے آدمی کو ایسے رنگ میں تربیت دیں کہ وہ ایک حد تک تبلیغی کام کو حیح طور پر انجام دے سکے۔مثلاً مشرقی افریقہ کے ممالک تنزانیہ، یوگنڈا اور کینیا میں اگر تین با قاعدہ مربی ہوں اور ان کے ساتھ 300 ایسے مربی ہوں، جو شارٹ کورس کی بنیاد پر تربیت یافتہ ہوں تو تبلیغ کے کام کو ترقی دی جاسکتی ہے۔اس صورت میں جہاں پڑھے لکھے اور عام لوگوں سے بات کرنے کا موقع ہو، وہاں با قاعدہ تربیت یافته مربی چلا جائے۔لیکن جو عوام ہیں اور جو پڑھے لکھے آدمیوں کے برابر علم نہیں رکھتے ، ان کی نسبت ہمارے ان کم تربیت یافتہ لوگوں کے پاس علم زیادہ ہوگا اور پھر اگر ان کا اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا ہو جائے ، انہیں دعا کرنے کی عادت ہو، دعا میں انہیں شغف حاصل ہو اور ساتھ ہی وہ اخلاص اور جذبہ سے کام کریں تو پھر انہیں یہ کام کرنا اور بھی آسان ہوگا۔اس وقت اسلام خطرہ میں ہے اور ہمیں ہر مصیبت اور تکلیف برداشت کر کے بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کو دنیا میں بلند کرنا ہے۔تو حید باری تعالٰی کو دنیا میں قائم کرنا ہے اور اس کام کے لئے علم سے زیادہ خلوص اور تعلق باللہ کی ضرورت ہے۔ہمارا علم تو محدود ہے لیکن جب کسی کا خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا ہو جائے اور وہ اسے سکھانے پر آجائے تو وہ ایک سیکنڈ میں اتنا علم سکھا دیتا ہے، جو ایک استاد کئی سال میں بھی نہیں سکھا سکتا۔ہمارا نو جوان اگر اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھنے والا ہو، اس کا دل اخلاص اور محبت باری تعالیٰ سے پر ہو، وہ دعا میں شغف رکھتا ہوتو وہ کسی محاذ پر بھی دشمن اسلام سے شکست نہیں کھا سکتا۔پس ہمارے نو جوانوں کو چاہیے کہ وہ اسلام کی ضرورت کی طرف متوجہ ہوں۔اور اپنی اخروی زندگی کی خاطر اور اس دنیا میں اپنی اور اپنی نسلوں کی بھلائی کی خاطر اپنی زندگی دکھ اور تکلیف میں گزارنے کے لئے تیار ہوں۔تا ساری دنیا حلقہ بگوش اسلام ہو جائے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کی غرض پوری ہو کہ ساری دنیا خدائے واحد کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے۔اللہ تعالیٰ ہمیں یہ نکتہ سمجھنے کی تو فیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنی زندگیاں خدا تعالیٰ کی خاطر خدمت دین کے لئے پیش کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔سلسلہ تقریر جاری رکھتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔وو یہ بات نوٹ کر لینی چاہیے کہ ہمارے درمیان کسی قسم کا اختلاف نہیں ہونا چاہیے۔چاہے وہ کتنا ہی خفیف کیوں نہ ہو۔عام طور پر دنیا داروں میں جو اختلاف ہوتے ہیں، ان سے تو احمدی محفوظ ہیں۔67