تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 785
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 24 دسمبر 1 اسلام کا عالمگیر غلبہ اللہ تعالی کی ایک تقدیر ہے، جو کبھی لا نہیں کرتی وو خطبہ جمعہ فرمودہ 24 دسمبر 1971ء خون ، موت !!یہ تو ”اسلام“ کے معنی کے اندر ہی موجود ہے۔اسلام کے معنی ہی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ میں گم ہو کر اپنے اوپر ایک موت وارد کرنا اور خدا تعالیٰ کی رحمت سے ایک نئی زندگی پانا۔میدان جنگ میں شرف شہادت پانے والا اگر وہ نیک نیتی سے اور خدا تعالیٰ کے لئے جان دے رہا ہو تو شہادت حاصل کر کے اسی وقت زندوں کے زمرہ میں دوبارہ آجاتا ہے۔قرآن کہتا ہے ، تم ان شہیدوں کو مرا ہوا نہ کہو۔لیکن صرف شہید ہی نہیں بلکہ ایک کامل ایمان والا مسلمان جب خدا تعالیٰ کے لئے اپنے اوپر ایک موت وارد کرتا ہے تو وہ بھی خدا تعالیٰ سے اپنے لئے ایک ابدی زندگی حاصل کرتا ہے۔اگر آج ہم اپنے اوپر اس قسم کی موت وارد کر لیں ، اگر ہم خدا تعالیٰ کے پیار میں کھوئے جائیں، اگر ہم اپنے وجود پر فنا کی آندھیاں چلا کر خدا تعالیٰ کی صفات سے حصہ لینے لگیں تو دنیا کی کون سی طاقت ہے، جو ہمیں مار سکے ؟ دنیا کی کوئی طاقت خدا تعالیٰ کے پیاروں کو نیست و نابود اور ہلاک نہیں کر سکتی ، اس لئے ہمیں گھبرانے کی ضرورت نہیں۔گو آج دنیا ہمیں طعنے دے رہی ہے اور ہمیں تضحیک کا نشانہ بنارہی ہے مگر ہم ان چیزوں کی اس لئے پرواہ نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بشارت دی ہے کہ غلبہ اسلام کا سورج طلوع ہو چکا ہے۔کالی دیوی کی کالی بدلیاں اگر سامنے آجائیں تو وقتی اور عارضی طور پر روشنی تو دور ہو سکتی ہے لیکن وہ غلبہ اسلام کی راہ میں ہمیشہ کے لئے روک نہیں بن سکتیں۔لوگ کہتے ہیں کہ مسلم بنگال واپس کیسے آئے گا؟ میں کہتا ہوں تم مسلم بنگال کی بات کر رہے ہو ، ہم تو غیر مسلم دنیا کو بھی اسلام کی طرف لانے والے ہیں۔اور یہ وعدہ الہی ایک دن پورا ہو کر رہے گا اور اس کے آثار آج افق غلبہ اسلام پر ہمیں نظر آرہے ہیں۔مجنون کا یہ خواب نہیں کہ مسلم بنگال واپس آ جائے گا، مجنون کا خواب یہ ہے کہ اسلام مغلوب ہو جائے گا۔اسلام مغلوب نہیں ہوگا۔مسلم بنگال کیا، ہندو بنگال بھی۔مسلم بنگال کیا ، ہندو بھارت بھی۔مسلم بنگال کیا، عیسائی دنیا بھی۔مسلم بنگال کیا، کمیونسٹ ممالک بھی۔مسلم بنگال کیا ، دہریہ اور بت پرست بھی۔یہ سارے کے سارے اسلام کی طرف کھنچے چلے آئیں گے۔785