تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page viii
ہوئی تیسری نمایاں چیز ، جو ہمیں تحریک جدید کے کام میں نظر آتی ہے، وہ یہ ہے کہ غیر مذاہب کو اس کی وجہ سے اور اس کے کاموں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے۔اور وہ ، جو اپنی جہالت اور عدم علم کی وجہ سے اسلام کو خاطر میں نہیں لاتے تھے، آج وہ اسلام کے عقلی دلائل اور اسلام کی تاثیرات روحانیہ اور تائیدات سماویہ سے مرعوب ہو رہے ہیں۔ایک انقلاب عظیم بپا ہو گیا ہے۔۔۔انقلاب مختلف مدارج میں سے گزرتا ہے۔ایک دور اس کا یہ ہے اور وہ بھی عقل کو حیرانی میں ڈالنے والا ہے کہ آج سے چند سال پہلے اسلام کے خلاف اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف منکرین اسلام کس طرح متکبرانہ غراتے تھے۔اور آج وہی لوگ ہیں، جو احمدی مربیوں اور مبلغوں سے بات کرتے ہوئے بھی گھبراتے ہیں اور بات کرنے سے کتراتے ہیں۔اور تحریک جدید کے کام کا یہ حصہ، جو ایک نمایاں خصوصیت کے رنگ میں ہمیں نظر آتا ہے، اس کے ساتھ یہ کام بھی ہوا ہے کہ ان ممالک میں قرآن کریم اور اس کی تفسیر کی بڑی کثرت سے اشاعت کی گئی ہے لیکن ابھی بہت روپے کی ضرورت ہے، ابھی بڑے فدائی مبلغوں کی ضرورت ہے، ابھی بڑی دعاؤں کی ضرورت ہے، ابھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے کے لئے بڑے مجاہدہ کی ضرورت ہے۔تاکہ ہم انتہائی اور آخری کامیابی دیکھ سکیں۔لیکن جو کام ہوا ہے، وہ بھی معمولی نہیں۔بہر حال ہمیں ترقی کے میدان آگے نظر آرہے ہیں۔اللہ کی رحمت سے) اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے نہ مٹنے والے نشان ہمیں پیچھے نظر آرہے ہیں۔تحریک جدید کی یہ ایک نمایاں خصوصیت ہمیں نظر آتی ہے۔اور بھی بہت سی خصوصیات ہیں۔جماعت کو میں اس وقت اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک بہت بڑی نشانی تحریک جدید کی شکل میں اپنے پیچھے چھوڑی ہے۔(خطبہ جمعہ فرموده 23 مئی 1969ء) تحریک جدید کے کام کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے تحریک جدید کے ذمہ اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق جو کام لگایا ہے، وہ بڑا ہی اہم اور بڑا ہی مشکل ہے۔تحریک جدید کے ذمہ یہ کام ہے کہ آج اللہ تعالیٰ نے جو یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ پھر سے اسلام کو ساری دنیا میں