تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 769 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 769

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطاب فرموده 15 اکتوبر 1971ء نائیجیریا نے ہمیں کہا کہ ہاؤس سرجن کے طور پر ڈاکٹر دے دو اور اس طرح ہماری مدد کرو تو شاید اللہ تعالیٰ اور بھی سامان پیدا کر دے۔وو ( مطبوعه روزنامه الفضل 11 فروری 1972ء)۔۔۔ہمارے احمدی ڈاکٹروں نے بڑی اچھی مثال پیش کی ہے۔دنیا میں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی کہ مثلاً ایک ڈاکٹر جولندن میں قریباً چار سو پونڈ ماہانہ کمارہا تھا، وہ ساٹھ پونڈ ماہانہ پر وقف کرنے کے لئے تیار ہو گیا۔میں نے اسے خود روکا ہوا ہے کیونکہ وہ ڈینٹسٹ ہے اور مجھے ابھی ان کی ضرورت نہیں تھی۔ایک اور ڈینٹسٹ ڈاکٹر مجھے مل گئے تھے، ان کو میں نے گیمبیا بھجوا دیا ہے اور اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے۔پاکستان میں نوری صاحب ہمارا ایک نوجوان ڈاکٹر ہے، پچھلے سال وہ یو نیورسٹی میں اپنے لاہور ایریا میں فرسٹ آیا ہے، اس نے زندگی وقف کر دی ہے۔وہ بغیر ہاؤس جاب کئے جانے کے لئے تیار تھا۔لیکن جب میں نے دوستوں سے مشورہ کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ اگر اس کو higher qualification کے لئے امریکہ یا انگلستان بھیجنا ہو تو پھر اس کے لئے ہاؤس جاب کرنا ضروری ہے۔چنانچہ میں نے اسے کہا کہ پہلے ہاؤس جاب کرو۔غالبا ڈیڑھ ، دو مہینے تک اس کا ہاؤس جاب ختم ہو رہا ہے۔اس کے متعلق میرا پروگرام یہ ہے کہ پہلے اسے وہاں بھجوا دیں گے، پھر تین سال کا عرصہ وہاں خدمت کرے گا۔اس عرصہ میں پیسے بھی کمائے گا اور کچھ جوڑے گا اور پھر وہ لندن جائے گا۔اور وہاں دو، اڑھائی سال میں higher degree لے گا۔بلکہ میرا خیال ہے کہ وہ اس سے بھی جلدی لے لے گا۔کیونکہ وہ ماشاء اللہ بڑا ذہین بچہ ہے۔اللہ تعالیٰ اس کی ذہانت اور صحت کو قائم رکھے اور اسے لمبی زندگی عطا فرمائے۔اسی طرح کئی اور نو جوان ڈاکٹروں نے اپنی زندگی وقف کر دی ہے۔دنیا میں یہ بھی نہیں ہوا۔دنیا تو بڑے بڑے جبہ پوشوں کو بھی مقناطیس کی طرح اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔لیکن یہ تو جماعت ہی اللہ تعالیٰ نے عجیب پیدا کر دی ہے۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی ہمیں دے گا اور ہمیں کچھ نہیں کرنا۔خدا تعالیٰ نے بڑی وضاحت سے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ اپنا پورا زور لگا لو، پھر جو کمی رہ جائے گی، وہ میں پوری کر دوں گا۔اب غلبہ اسلام کے لئے جتنی طاقت کی ضرورت ہے یا جتنی انسانوں کی اور جتنے مال و دولت کی ضرورت ہے، اس کا شاید کروڑواں حصہ بھی ہمارے پاس نہیں ہے۔مگر آج ہمارے کان میں یہ آواز پڑ رہی ہے کہ جتنی ضرورت ہے، اس کا کروڑواں حصہ تم خرچ کر دو، باقی میں دے دوں گا۔یہ اللہ تعالیٰ کا کتنا فضل اور رحم ہے۔جہاں تک نئے سکولوں کے اجراء کا تعلق ہے، نایجیر یا پیچھے رہ گیا ہے۔نائیجیریا میں کچھ جذباتی بات بھی آگئی تھی۔حضرت مصلح موعودؓ نے شروع میں جب وہاں مبلغ بھیجے اور جماعت قائم ہوئی تو اس وقت 769