تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 768 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 768

اقتباس از خطاب فرموده 15 اکتوبر 1971ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اور حکومت ہمارے ہسپتال کو روک دے گی۔جس سے ہماری سبکی ہوگی۔مگر میرا دل کہتا تھا کہ میں نے یہیں ہسپتال بنانا ہے۔چنانچہ وہ مجھے بار بار خط لکھ رہے تھے کہ یہ جگہ مناسب نہیں ہے، فلاں جگہ مناسب ہے، وہاں ہسپتال ہونا چاہیے۔میں نے کہا کہ جب میں نے فیصلہ کر دیا ہے تو وہیں بنے گا۔چنانچہ میں نے یہاں سے ڈاکٹر بشیر صاحب کو بھیج دیا۔وہ سرحد کے رہنے والے ہیں اور بڑے مخلص ہیں۔انہوں نے بڑا ہی اچھا کام کیا ہے۔چنانچہ اس علاقے کا جو عیسائی ہیلتھ آفیسر تھا، اس نے ہمارے حق میں رپورٹ دے دی۔اور رپورٹ دے کر وہ خود چھٹی پر چلا گیا۔اس کی جگہ عارضی طور پر جو دوسرا آدمی آیا، وہ بڑا متعصب تھا۔اس نے عیسائی پادریوں اور ڈاکٹروں سے مل کر مرکزی حکومت پر زور دینا شروع کیا کہ ان کو ہسپتال کھولنے کی اجازت نہ دو۔چنانچہ معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا۔پھر انہوں نے مجھے لکھنا شروع کیا کہ یہاں یہ قصہ ہے۔میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فضل کرے گا، تم گھبراتے کیوں ہو؟ چار، پانچ مہینے تک یہ ہی حالت رہی۔مگر انہوں نے اس عرصے میں ہمارے ڈاکٹر کاریذیڈنٹ پرمٹ منسوخ نہیں کیا۔کیونکہ پہلا ہیلتھ آفیسر یہ رپورٹ کر چکا تھا کہ عمارت بھی مناسب ہے اور ڈاکٹر بھی اہل ہے۔چنانچہ حکومت نے کہہ دیا کہ جب تک ہم اجازت نہیں دیتے ، اس وقت تک یہ ڈاکٹر پریکٹس کرے، ہم کچھ نہیں کہیں گے۔چنانچہ اس نے پریکٹس شروع کر دی۔پریکٹس کے دوران ایک دن کی تھولک کے علاوہ عیسائیوں کے دوسرے فرقے کا جو ہسپتال تھا، اس کا یورپین ڈاکٹر اچانک مر گیا اور ان کے پاس کوئی ڈاکٹر نہ رہا۔اور یہ جو کیتھولک ڈاکٹر تھا، یہ ایک دن بیمار پڑ گیا۔اور اسی دن ایک بڑی خطرناک مریضہ کا کیس آ گیا۔اس پر انہیں مجبوراً رات کو ہمارے ڈاکٹر بشیر کے پاس درخواست کرنا پڑی کہ اس طرح ایک مریضہ آئی ہوئی ہے، تم ہمارے ہسپتال میں آکر اس کا آپریشن کر دو۔انہوں نے آپریشن کیا اور وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے کامیاب ہوا۔اور مریضہ اچھی ہو گئی۔کچھ ایسے بھی مریض تھے، جن کو ان عیسائی ڈاکٹروں نے لا علاج قرار دے رکھا تھا۔جب ہمارا ڈاکٹر پہنچا تو مریض کے رشتہ دار (جو کہ ذرا سا بھی کہیں سے سہارا ملے تو اس کی تلاش کرتے ہیں ) ہمارے ڈاکٹر کے پاس آگئے۔انہوں نے ان کا علاج کیا تو خدا کے فضل سے ان میں سے بہت سے اچھے ہو گئے۔جنہیں عیسائی ڈاکٹر لا علاج قرار دے چکے تھے۔اب یہ چیز تو کسی منصوبے کے اندر نہیں آتی۔یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، جو آسمان سے نازل ہوتا ہے۔پس اٹھارہ ڈاکٹروں کا تو میں نے وعدہ کیا تھا اور وہ بھی ان سے کہا تھا کہ انشاء اللہ پانچ سال کے اندرا نظام ہو جائے گا۔مگر اب یہ اٹھارہ تو سمجھیں کہ پہنچ گئے ہیں۔کیونکہ چودہ ڈاکٹر پہنچ چکے ہیں اور چار تیار ہیں، چند دنوں تک پہنچ جائیں گے۔علاوہ ازیں انیس ڈاکٹروں کے اور مطالبے آگئے ہیں۔اور اگر 768