تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 765 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 765

تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطاب فرموده 15 اکتوبر 1971ء کہ پیسہ کہاں سے آئے گا؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ دولتوں کا اصل مالک ہے۔اس نے کہا ہے تو وہ دے گا۔کیونکہ اس کے خزانے میں کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔یا مجھے ی فکر نہیں تھی کہ آدمی کہاں سے آئیں گے؟ چند سال ہوئے ، میں نے تحریک جدید کو کہا کہ تم وہاں اور ڈاکٹر ز کیوں نہیں بھیجتے ؟ تو تحریک نے کہا کہ کوئی ڈاکٹر ہی نہیں ملتا، ہم بھیجیں کیسے؟ اور وہاں میں وعدہ کر آیا تھا ، چھ ملکوں کے لیے کم سے کم 18 ڈاکٹروں کا۔اور یہ کہتے تھے کہ ہمیں وہاں بھیجنے کے لیے ایک ڈاکٹر بھی نہیں ملتا۔لیکن مجھے کوئی فکر نہیں تھا۔بلکہ مجھے یقین تھا کہ جب خدا تعالیٰ کا منشاء یہ ہے کہ وہاں ڈاکٹر ز بھیجے جائیں تو ڈاکٹر آئیں گے۔کیونکہ میں نے ڈاکٹر پیدا نہیں کرنے ، اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے۔جتنے سکولوں کا میں نے وعدہ کیا تھا، نیز یہ جو ہیلتھ سینٹرز ہیں، ان کا یعنی سکولوں اور ہسپتالوں کا پانچ سالہ بجٹ ایک کروڑ ، چالیس لاکھ روپیہ ہے۔اور اس کا چندہ بصورت وعدے نصرت جہاں ریز روفنڈ 48لاکھ کے قریب پہنچا ہے اور خرچ ایک کروڑ ، چالیس لاکھ روپے کا ہے۔باقی قریبا نوے لاکھ روپے کہاں سے آئیں گے؟ مگر مجھے فکر نہیں تھی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دیے کہ اب یہی ہیلتھ سنٹرز روپیہ کما رہے ہیں۔اور ان کے ذریعہ جو کمایا جاتا ہے، وہ وہیں ان لوگوں پر خرچ کر دیا جاتا ہے۔کیونکہ ہم exploitation میکس پلائیٹیشن ) کے لیے وہاں نہیں گئے۔ہم اسلام کی محبت پیدا کرنے کے لیے گئے ہیں۔اور اسلام کی محبت پیدا ہی نہیں ہو سکتی، اگر آپ ایک دھیلہ بھی وہاں سے نکالیں۔پھر تو وہ کہیں گے تم تو ہمارے پیسے کے لالچ میں یہاں آئے تھے۔ہم ان سے کہتے ہیں، ہم پیسہ کی لالچ میں نہیں آئے ، ہم خدمت کے جذبہ سے آئے ہیں۔" ( مطبوعه بروزر نامه الفضل 10 فروری 1972ء) نائیجیریا میں ڈاکٹروں کا ایک crisis ( کرائسز ) پیدا ہوا اور ہماری پریشانی کا باعث بنا۔ہمیں کچھ سمجھ نہیں آتی تھی کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ کیونکہ یعقو بوگون بڑے پیار سے ملے تھے۔میں نے ان سے بھی اپنی سکیم کے متعلق باتیں کی تھیں اور وہ بڑے خوش تھے۔اب وہ ہمیں ڈاکٹروں کے لئے ریزیڈنشل رمٹ نہیں دے رہے تھے۔میں بڑا پریشان تھا کہ بات کیا ہے؟ شاید بیچ میں کوئی ایسا متعصب آدمی آگیا ہے، جو رعب ڈال رہا ہے۔فکر تھا کہ کیا بات ہے؟ بعد میں یہ پتہ لگا کہ وہاں افریقن ڈاکٹر جو گورنمنٹ کے نوکر تھے، انہیں یکدم یہ خیال پیدا ہوا کہ اگر ہم استعفی دے کر اپنی پریکٹس کریں تو زیادہ کما سکتے ہیں۔چنانچہ انہوں نے استعفے دینے شروع کر دیئے۔جس سے حکومت نایجیریا کو یہ خطرہ پیدا ہو گیا کہ بہت سارے 765