تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 725
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم تقریر فرمودہ 27 مارچ 1970ء اس ضمن میں حضور انور نے مکرم چوہدری عبدالمجید صاحب نمائندہ کراچی سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا:۔حج کے موقع پر اس افریقن احمدی کی خانہ کعبہ میں صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر تقریر کرنے کی بات آپ کے بھائی کی طرف منسوب ہوئی ہے، شاید ان کا نام عبد الرشید ہے۔(اس پر حضور کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ وہ دوست قریشی نام کے ہیں۔بہر حال آپ ان سے یہ واقعہ لکھوا کر مجھے بھجوا دیں کیونکہ لکھتے وقت آدمی زیادہ محتاط ہوتا ہے۔یہ ایک ایسا واقعہ ہے، جو مستند طور پر سامنے آجانا چاہیے۔اور ہماری تاریخ میں بھی محفوظ ہو جانا چاہیے۔آپ ان سے کہیں کہ وہ اپنے دماغ پر بوجھ ڈال کر اور سوچ سمجھ کر صحیح واقعہ لکھ دیں۔مثلاً اس وقت وہاں پر جو مجمع تھا، اس کی انداز التعداد و غیرہ کتنی تھی ؟ پھر ایک عرب علاقے میں پچھلے سال 35 خاندان احمدی ہوئے ہیں۔جن کی وجہ سے وہاں ایک بہت بڑی جماعت قائم ہوگئی ہے۔اسی طرح ایک اور قصبے میں پچھلے ایک، دو ماہ میں پہلے دو اور پھر تین کل پانچ خاندان احمدی ہوئے ہیں اور وہاں بھی جماعت بن گئی ہے۔غرض عربی بولنے والے علاقوں کے لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے فرشتوں نے یہ حرکت پیدا کی ہے کہ وہ احمدیت کی طرف متوجہ ہوں۔اسی طرح جس وقت میں 1967ء میں یورپ گیا ہوں، اس وقت ڈنمارک میں مصری سفیر کے تعصب کا یہ حال تھا کہ انہوں نے اپنے سفارت خانہ کے تمام کارکنوں کو مسجد احمد یہ میں جانے سے منع کر رکھا تھا۔اسی طرح احمدیوں سے تعلق رکھنے کی بھی ممانعت تھی۔چنانچہ میرے اس دورہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ تغیر پیدا کیا کہ نئے سفیر نئی ہدایات لے کر آگئے۔لیکن چونکہ پہلے سفیر اپنے عملے کو احمدیوں سے ملنے جلنے سے روکتے رہے تھے اور انہوں نے دوری کی راہوں کو اختیار کر رکھا تھا، اس لئے انہیں بھی شروع میں حجاب محسوس ہوا۔چنانچہ پہلے انہوں نے وہاں کے آرکیٹکٹ ، جنہوں نے ہماری مسجد بنانے کا ٹھیکہ لیا ہوا تھا، انہیں چائے کی دعوت پر بلایا اور ان سے ہمارے مشن کے حالات پوچھتے رہے۔پھر وہاں کے بعض مقامی دوستوں کو بلایا اور اب انہوں نے اپنے عملہ کو یہ اجازت دے دی ہے کہ جو چاہے، جب چاہے، مسجد احمد یہ آجا سکتا ہے۔پچھلی عید کے موقع پر خود یہ مصری سفیر بھی غالباً ہماری مسجد میں آئے ہوئے تھے۔میں نے شاید جلسہ سالانہ پر بھی بتایا کہ لیبیا کے سفیر نے خط میں یہ تحریر کیا کہ جو رقم میں بھجوا رہا ہوں، وہ میری حکومت کی طرف سے ہے۔چنانچہ انہوں نے پانچ ہزار کی رقم ہماری مسجد کے لئے بھجوادی کہ یہ میری حکومت کی طرف سے بطور عطیہ ہے۔اسی طرح عراق کا ایک وفد ڈنمارک گیا ہوا تھا، اس نے بھی عطیہ دیا۔اس وقت عرب طالب علم مختلف ممالک میں تعلیم کی خاطر پھیلے ہوئے ہیں۔کیونکہ آج کل تعلیم کا یہ عام 725