تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 703
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرموده 23 اکتوبر 1970ء ہیں۔اور بعض ایسی جماعتیں ہیں، جن سے ہم توقع رکھتے تھے کہ وہ اس طرف زیادہ توجہ دیں گی مگر انہوں نے توجہ نہیں دی۔مثلا ربوہ ہے۔ربوہ اپنے اس ٹارگٹ کو نہیں پہنچا اور یہ بڑے افسوس کی بات ہے۔ربوہ کو تو باہر کی جماعتوں کے لئے نمونہ بننا چاہیے۔مگر یہ نمونہ نہیں بنے۔نہ صرف یہ کہ ربوہ کے دوست باہر کی جماعتوں کے لئے نمونہ نہیں بنے بلکہ انہوں نے کراچی اور دوسرے شہر واضلاع کے نمونے سے بھی فائدہ نہیں اٹھایا۔ٹارگٹ کے لحاظ سے ربوہ کو نوے ہزار کی رقم دینی چاہیے تھی۔جس میں سے صرف ستاون ہزار کے وعدے ہیں۔اسی طرح لاہور شہر کا حال ہے۔یہ امیر احمدیوں کا شہر ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کی کامل روح موجود نہیں یا اس روح کو بیدار نہیں کیا گیا۔دوسری بات زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے روح تو ہے لیکن نظام جماعت لاہور نے اس روح کو کما حقہ بیدار نہیں کیا۔جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کا بھی چورانوے ہزار ٹارگٹ بنتا تھا لیکن صرف بہتر ہزار کے وعدے ہیں۔پھر سیالکوٹ شہر ہے۔انہیں پندرہ ہزار کا ٹارگٹ دیا گیا تھا۔ان کے دس ہزار کے وعدے ہیں۔ویسے میں نے سینکڑے چھوڑ دیئے ہیں، ہزاروں میں بات کر رہا ہوں۔اسی طرح راولپنڈی شہر ہے، جس کے پہلو میں اسلام آباد شہر ہے، جس نے اپنا ٹارگٹ پورا کر دیا ہے۔لیکن راولپنڈی شہر کا چون ہزار روپے ٹارگٹ بنتا تھا اور انہوں نے وعدے صرف تمہیں ہزار کے کئے ہیں۔یعنی قریباً پچپن فیصد ہیں۔یہ بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔پھر ملتان شہر ہے ، اس کا ٹارگٹ سترہ ہزار تھا اور انہوں نے وعدے کئے ہیں، گیارہ ہزار کے۔دفتر نے یہ رپورٹ دی ہے کہ جو شہر یعنی ضلع کا صدر مقام ہے، وہاں کی ضلعی جماعتیں بھی پیچھے ہیں۔یہ تو ایک طبعی بات ہے۔جب کسی جماعت نے توجہ نہیں کی اور سستی دکھائی ، نظام جماعت نے اپنی ذمہ داری کو نہیں نباہا تو اگر شہر پیچھے ہے تو ضلع یقین پیچھے ہوگا۔بلکہ غالباً کچھ زیادہ پیچھے ہوگا۔بہر حال ہمارے سامنے یہ بڑی افسوسناک تصویر آتی ہے۔اللہ تعالیٰ فضل کرے اور ہمیں اپنی ذمہ داری نباہنے کی توفیق عطا کرے۔میں نے آپ کو کچھ معیار بھی بتائے تھے۔یعنی دفتر اول اس حساب سے اوسطا رقم دے رہا ہے، دفتر دوم کی اوسط کیا ہے؟ اور دفتر سوم کی اوسط کیا ہے؟ اور چونکہ دفتر اول کی اوسط بہت اچھی تھی اور اب بھی ہے، اس لیے میں نے اس میں زیادتی نہیں کی تھی۔دفتر اول میں جو حصہ لینے والے ہیں، ان کی اوسط فی کس -64 روپے ہے اور یہ اوسط بڑی اچھی ہے۔کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ دفتر اول میں بہت سے احباب کافی بڑی عمر کے ہیں۔اور میرا یہ خیال ہے (اگر چہ اس حصہ کی میرے پاس رپورٹ تو نہیں لیکن ان کی میرے پاس جو روزانہ رپورٹیں آتی ہیں، ان سے پتہ لگتا ہے ) کہ دفتر اول کی مجموعی رقم کم ہوگئی ہے۔اور ہونی چاہیے تھی۔کیونکہ بڑی عمر کے لوگ اس میں شامل ہیں۔وفات بھی انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہے۔بعض دفعہ تو و 703