تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 702 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 702

خطبہ جمعہ فرموده 23 اکتوبر 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم قربانیوں کے لئے تیار کریں۔دفتر سوم کی ذمہ داری تو انصار اللہ پرڈالی گئی تھی ، اس میں بھی ابھی کافی ستی ہے۔اس دو سال میں وہ ٹارگٹ ، جو میں نے تحریک جدید کے سامنے رکھا تھا یا یوں کہنا چاہیے کہ تحریک کے تعلق میں جماعت کے سامنے رکھا تھا۔وہ یہ تھا کہ پاکستان کے احمدیوں کی یہ مالی قربانی سات لاکھ نوے ہزار روپے ہونی چاہیے۔مگر جماعت اس ٹارگٹ تک نہیں پہنچ سکی۔کچھ جائز وجوہات بھی ہیں۔پہلے فضل عمر فاؤنڈیشن کے چندوں کا زائد بار تھا۔اب بار تو نہیں کہنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے پیار کے جو دروازے کھولے تھے، ہم اپنی غفلتوں کی وجہ سے یا اپنی بشری کمزوری کے نتیجہ میں اتنا فائدہ نہیں اٹھا سکے، جتنا کہ ہمیں اٹھانا چاہیے تھا یا جتنا ہمارا پیارا رب ہم سے توقع رکھتا تھا کہ ہم اٹھائیں گے۔باوجود فضل عمر فاؤنڈیشن کی زائد قربانیوں کے، جو جماعت دے رہی تھی ، پھر بھی پہلے کی نسبت تحریک نے ترقی کی ہے۔پنتیسویں سال میں چھ لاکھ ہمیں ہزار تک پہنچے اور چھتیسویں سال میں چھ لاکھ، پینسٹھ ہزار تک پہنچے اور سات لاکھ نوے ہزار تک، جو میں نے ٹارگٹ مقرر کیا تھا، اس میں ابھی ایک لاکھ پچیس ہزار کی کمی ہے۔کیونکہ اس عرصہ میں نصرت جہاں ریز روفنڈ کا بھی مطالبہ ہوا ہے۔یہ مطالبہ اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق ہوا ہے، مغربی افریقہ کی ضرورت کے مطابق یہ مطالبہ ہوا ہے۔اس لئے میں نے سات لاکھ نوے ہزار کا جو ٹارگٹ رکھا تھا کہ یہاں تک جماعت کو پہنچنا چاہیے، اس میں کوئی زیادتی نہیں کرنا چاہتا۔لیکن میں امید رکھتا ہوں کہ جماعت اس سال انشاء اللہ وہاں تک پہنچ جائے گی۔بعض جماعتوں نے اس طرف توجہ دی ہے، بعض نے بڑی غفلت برتی ہے۔اگر ہم جماعتوں کا سرسری جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کراچی کی جماعت اپنے ٹارگٹ کو پہنچ گئی ہے۔جب میں نے یہ اعلان کیا تھا یعنی سات لاکھ نوے ہزار کا ٹارگٹ مقرر کیا تھا تو دفتر تحریک نے ہر بڑی جماعت اور ضلع کا نسبتی طور پر ٹارگٹ مقرر کر دیا۔یعنی جو چونتیسویں، پینتیسویں سال کا چندہ تھا، اس کے ٹوٹل اور سات لاکھ نوے ہزار کی جو نسبت بنتی تھی ، اس نسبت سے تحریک نے کہا کہ ہر جماعت اور ضلع اتنا زیادہ دے دے تو جو ٹارگٹ ہے ، وہ پورا ہو جاتا ہے۔اس نسبت سے یعنی سات لاکھ نوے ہزار کے ٹارگٹ کے لحاظ سے کراچی کو جتنا دینا چاہیے تھا، اتنا اس نے دے دیا ہے۔الحمد للہ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔اسی طرح اسلام آباد ہے، پھر ضلع ہزارہ ہے، پھر جہلم شہر ہے، اسی طرح بنوں شہر وضلع ہے، پھر ساہیوال شہر ہے، پھر ڈیرہ غازیخاں شہر ضلع ہے، پھر بہاولپور شہر ضلع ہے اور اسی طرح ڈھا کہ شہر۔ان سب نے اپنے تحریک جدید کے چندے اس نسبت سے بڑھا دیئے کہ جس نسبت سے سات لاکھ نوے ہزار کی رقم پوری کرنے کے لئے ان پر ذمہ آتی بھی ایسی داری آتی تھی۔اللہ تعالیٰ انہیں بھی جزائے خیر عطا فرمائے۔لیکن بعض ایسی جماعتیں بھی ہیں، جو کچھ ست 702